اترپردیشتازہ ترین خبریں

اناؤ عصمت دری معاملہ: سی بی آئی نے شروع کی تفتیش

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اناؤ عصمت دری متاثرہ کے اہل خانہ کے اس خط کا نوٹس لیا جس میں ملزم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اور اس کارندوں کی جانب سے دھمکائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ وہیں متأثرہ کے ساتھ پیش آئے سڑک حادثے کے معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کے فیصلے کے 36 گھنٹے بعد مرکزی جانچ ایجنسی نے بدھ کو جائے وقوع کا دورہ کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

بتا دیں کہ اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس(سی بی آئی،اے سی بی لکھنؤ) رام سنگھ کی قیادت میں سی بی آئی کی 12 رکنی ٹیم تفتیش کے لئے رائے بریلی پہنچی۔ ٹیم نے پہنچتے ہی جائے وقوع کا معائنہ کیا ٹرک اور کار کو دیکھنے کے بعد اہم نکات نوٹ کئے۔ موقع وارادت پر پہنچ کر تفتیش کرنے کے بعد سی بی آئی ٹیم ضلع جیل میں قید ٹرک ڈرائیور اور کلینر سے ملاقات کر ے گی۔ ٹیم نے حادثے کے بعد موقع واردات پر پہنچنے والے انوسٹی گیشن افسران اور دیگر پولیس اہلکار سے بھی بات چیت کی اور ان کے بیانات لئے۔

یوپی حکومت نے پیر کو سی بی آئی جانچ کی تجویز بھیجی تھی جسے مرکز نے منگل کو منظوری فراہم کردی۔ منظوری ملتے ہی سی بی آئی نے معاملے کو اپنی ہاتھ میں لیا اور فوری کاروائی شروع کردی ہے۔ سی بی آئی نے اس ضمن میں ملزم ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر سمیت 10 افراد کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے جن لوگوں کو ملزم بنایا ہے ان میں کلدیپ سنگھ سینگر، ان کا بھائی منوج سنگھ سینگر، ونود مشرا، ہری پال سنگھ، نوین سنگھ، کومل سنگھ، ارون سنگھ، گیانندر سنگھ، رنکو سنگھ اور وکیل اودیش سنگھ شامل ہیں ان کے علاوہ 15۔20 نامعلوم افراد بھی ملزم بنائے گئے ہیں۔

ارون سنگھ یو پی حکومت میں وزیر روندر پرتاپ سنگھ عرف دھنی سنگھ کے داماد ہیں وہ نواب گنج بلاک کے موجودہ بلاک پرمکھ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ہری پال اور رنکو اس معاملے میں واحد خاتون ملزم ششی سنگھ کے شوہر اور بیٹے ہیں۔ کومل سنگھ ملزم ایم ایل اے کے بھائی منوج سنگھ کا دوست، نوین سنگھ ایم ایل اے کا قریبی ہم راز ہے۔گیانندر سنگھ بھی ایم ایل اے کا دوست ہے جبکہ وکیل اودھیش سنگھ ایم ایل اے کا وکیل ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ وہ جمعرات کو دیکھیں گے کہ عصمت دری کی متاثرہ کا لکھا گیا خط جو سپریم کورٹ کی رجسٹری کو 17 جولائی کو موصول ہوا، ان کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ بنچ نے کہاکہ ”ہم اس معاملے میں کل سماعت کریں گے“۔ امید ہے کہ چیف جسٹس ان کے سامنے خط پیش کرنے میں تاخیر کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی رجسٹری کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ اس سنگین اور نازک معاملے میں کچھ مثبت کرنے کی کوشش کرے گا۔واضح رہے کہ ایسی خبریں شائع/نشر ہوئی ہیں کہ عصمت دری متاثرہ کے اہل خانہ کی جانب سے لکھا گیا خط 17 جولائی کو موصول ہو جانے کے باوجود سپریم کورٹ رجسٹری نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close