اترپردیشتازہ ترین خبریں

اناؤ عصمت دری: متاثرہ کی موت پر پرینکا نے یوگی کو گھیرا

قومی دارالحکومت کے صفدر جنگ اسپتال میں اناؤ عصمت دری متاثرہ نے جمعہ کی دیر رات آخری سانس لی۔ صفدر جنگ اسپتال کے شعبہ برن اینڈ پلاسٹک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر شلبھ کمار نے بتایا کہ لڑکی کو نازک حالت میں جمعرات کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن گزشتہ رات تقریبا ساڑھے آٹھ بجے اس کی طبیعت تیزی سے بگڑنے لگی۔ ڈاکٹروں نے ادویات کی مقدار بھی بڑھائی لیکن تقریبا 11.10 پر اس کو دل کا دورہ پڑا اور 11.40 پر اس نے آخری سانس لی۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود متاثرہ کو بچایا نہیں جا سکا۔

واضح ر ہے کہ جمعرات کی صبح ہی اناؤ میں پانچ ملزمان نے اس پر پٹرول ڈال کر جلا دیا تھا۔ ان ملزمان میں سے ایک متاثرہ کی اجتماعی عصمت دری کا اصل ملزم بھی تھا۔ دہلی خواتین کمیشن کی سربراہ سواتی ماليوال نے ٹویٹ کرکے کہا ’’کھوکھلے سسٹم سے لڑنے کے بعد ملک کی ایک اور بیٹی نے دم توڑا۔ مرتے ہوئے بھی لڑتی رہی اور ڈاکٹروں سے اسے زندہ رکھنے کی فریاد کرتی رہی، کہہ رہی تھی اسے اپنے قاتلوں کو پھانسی چڑھتے ہوئے دیکھنا ہے‘‘۔ انہوں نے گونگي بہری مرکزی اور اتر پردیش کی حکومت سے قاتلوں کو فوری طور پر فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کرکے پھانسی دینے کی اپیل کی۔

وہیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتر پردیش کے اناؤ آبروریزی متاثرہ کی موت پر دکھ اور غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اناؤ کے گذشتہ واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے متاثرہ کو فوری طور پر سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی؟ مسز واڈرا نے ہفتہ کو ٹوئٹ کرکے کہا’’میں ایشورسے دعا کرتی ہوں کہ اناؤ متاثرہ کے خاندان کو اس دکھ کی گھڑی میں ہمت و استقلال دے۔ یہ ہم سب کی ناکامی ہے کہ ہم اسے انصاف نہیں دے پائے۔ سماجی طور پر ہم سب مجرم ہیں لیکن یہ اتر پردیش میں کھوکھلے ہو چکے قانون کے نظام کو بھی واضح کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا’’اناؤ کے گذشتہ واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے متاثرہ کو فوری طور پر سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی؟ جس افسر نے اس کا ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ اتر پردیش میں ہر روز خواتین پر جو ظلم ہو رہا ہے، اس کو روکنے کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟ ‘‘ انہوں نے اناؤ آبروریزی متاثرہ کو انصاف نہیں دلا پانے کو سماجی ناکامی قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اس کی موت سے ثابت ہو گیا ہے کہ اتر پردیش میں نظم و نسق کھوکھلا ہو چکا ہے۔

مسز واڈرا نے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ اس ایونٹ واقعہ کے لئے ہمارا مکمل سماج ذمہ دار ہے۔ یہ اتر پردیش کی اصلیت کی بھی تصویر ہے۔ اس سے قبل ’’میں ایشورسے دعا کرتی ہوں کہ اناؤ متاثرہ کے خاندان کو اس دکھ کی گھڑی میں ہمت و استقلال دے۔ یہ ہم سب کی ناکامی ہے کہ ہم اسے انصاف نہیں دے پائے۔ سماجی طور پر ہم سب مجرم ہیں لیکن یہ اتر پردیش میں کھوکھلے ہو چکے قانون کے نظام کو بھی واضح کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا’’اناؤ کے گذشتہ واقعہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے متاثرہ کو فوری طور پر سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی؟ جس افسر نے اس کا ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ اتر پردیش میں ہر روز خواتین پر جو ظلم ہو رہا ہے، اس کو روکنے کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟ ‘‘

متاثرہ کی موت کے بعد اناؤ کے قصبہ بہا ر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کیلئے مذکورہ قصبہ کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں میں کافی اشتعال پایا جاتاہے۔مقامی رہائشی دودنوں سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close