اترپردیشتازہ ترین خبریں

اناؤ ریپ معاملہ:کانگریس کا احتجاج

بی جے پی کاملزم سینگر کو برخاست کرنے کا دعوی

اناؤ ریپ کیس کی متأثرہ کے ساتھ پیش آئے سڑک حادثے کے بعد ریپ ملزم و بی جے پی رکن اسمبلی سندیپ سنگھ سینگر کو برخاست کئے جانے کے مطالبے کے درمیان بی جے پی نے اپوزیشن کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے دعوی کیا کہ اناؤ ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو پہلے ہی سے برخاست کیا جاچکا ہے۔ بی جے پی ترجمان راکیش ترپاٹھی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن پارٹیوں کو اس کا علم نہیں ہے کہ ملزم ایم ایل اے کے خلاف گذشتہ سال ہی کاروائی کی جاچکی ہے۔انہیں ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں پارٹی سے برخاست کردیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس وقت کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی تھی لیکن اب آپ کے پوچھنے پر آپ کو آگاہ کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اتوار کو ایک تیز رفتار ٹرک نے اناؤ ریپ کیس متاثرہ کے کار کو ٹکر مار دی تھی جو اپنے وکیل،چچی اور چچی کی بہن کے ساتھ یو پی کے ضلع رائے بریلی جارہی تھی۔اس حادثے میں متاثرہ کی چچی اور ان کی بہن کی موت ہوگئی جبکہ ریپ متاثرہ اور اس کے وکیل کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔دونوں زیر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ 40 گھنٹوں کے بعد بھی متاثرہ کی حالت اب بھی نازک ہے۔ متأثرہ نے گذشتہ سال اناؤ ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر اور دیگر کے خلاف اجتماعی عصمت دری کاایف آئی آر درج کرایا تھا۔متأثرہ کے والد کی گذشتہ سال پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی۔اس پورے حادثے میں ملزم ایم ایل اے کے ہاتھ ہونے کے شبہ کے ساتھ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ بی جے پی ایم ایل اے کو پارٹی سے فورا برخاست کیا جائے اور پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرائی جائے۔

مسٹر ترپاٹھی نے ایم ایل اے کے مجرم پائے جانے پر سخت کاروائی کی بات کہتے ہوئے کہا کہ میں یہ بات اک دم واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی کے معیاد کار میں کسی کی بھی ہرگز طرف داری نہیں کی جائےگی۔ اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائےگی۔کیس میں جانچ چل رہی ہے اور ہر کوئی سچ جاننا چاہتا ہے۔ وہیں دوسرے جانب یو پی کانگریس نے ریاستی راجدھانی میں بڑے پیمانے پر احتجا ج کیا اور سینکڑوں مرد وخواتین کانگریس کارکنوں کو پولیس نے اس وقت اپنی حراست میں لے لیا جب وہ جی پی او سے بی جے پی آفس کی جانب مارچ کررہے تھے۔کانگریس اراکین نے جی پی او پر کافی دیر تک دھرنا دیا۔ پویس کو احتجاجیوں کو قابو میں کرنے کے لئے معمولی طاقت کا بھی استعمال کرنا پڑا۔

کانگریس کی جانب سے کئےجارہے احتجاج کی قیادت پارٹی کے سینئر لیڈر ان اجے کمار للو ،آرادھنا مشرا، ادتی سنگھ اور دیپک سنگھ کررہے تھے جنہوں نے بی جے پی ایم ایل اے کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی سے فورا برخاست کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس لیڈر ونود کمار مشرا جو پولیس کے ذریعہ حراست میں لئے گئے لیڈروں میں شامل تھے ،الزام لگایا کہ بی جے پی ملزم ایم ایل اے کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ملزم ایم ایل اے سندیپ سنگھ سینگر کی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ایک تصویر کو ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریپ کیس میں جیل میں ہونے کے باوجودبی جے پی ملزم ایم ایل اے کو برخاست کیوں نہیں کررہی ہے۔انہوں نے لکھا’’ اب بی جے پی کس چیز کے انتظار میں ہے؟اناؤ ریپ کیس میں نام آنے اور ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اس آدمی کو برخاست کیوں نہیں گیا؟۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close