اترپردیشتازہ ترین خبریں

اناؤ آبروریزی معاملہ: متاثرہ کو 25 لاکھ دینے کی سپریم کورٹ کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اترپردیش کے اناؤآبروریزی معاملہ اور سڑک حادثے سے جڑے سبھی پانچ معاملوں کی سماعت دہلی منتقل کرنے کا جمعرات کو حکم دیا۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے آبروریزی سے متاثرہ کی کار کی ٹرک سے ہوئی ٹکر کی جانچ پوری کرنے کے لئے مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کو سات دنوں کا وقت دیا۔ اعلی عدالت نے حالانکہ کہا ہے کہ غیر معمولی حالات میں جانچ ایجنسی اور وقت کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ عدالت نے سبھی معاملوں کو دہلی کی عدالت میں منتقل کرنے اور ان کی سماعت روزہ مرہ کی بنیاد پر 45 دنوں کے اندر پوری کرنے کا بھی حکم دیا۔

اعلی عدالت نے اترپردیش کی حکومت کو متاثرہ کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے عبوری معاوضہ کے طور پر دینے کا حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے متاثرہ، اس کے وکیل، متاثرہ کی ماں، متاثرہ کے چار بھائی بہنوں، اس کے چچا اور اس کے اہل خانہ کے اراکین کو اناؤ کے گاؤں میں فوری طور سے مرکزی ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کے ذریعہ سلامتی مہیا کرانے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے سی بی آئی کی جانب سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ سے پوچھا ہے کہ انہیں اناؤ آبروریزی کی متاثرہ اور دیگر کے سڑک حادثے کی جانچ کے معاملے کے لئے کتنے وقت کی ضرورت ہے؟ اس پر سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ ایک مہینہ۔اس کے جواب میں جسٹس گوگوئی نے کہا کہ“ایک مہینہ نہیں سات دنوں میں معاملہ کی جانچ کریں۔ انہوں نے پوچھا کہ“متاثرہ کی حالت کیسی ہے؟ اس پر مسٹر مہتہ نے انہیں بتایا کہ وہ وینٹی لیٹر پر ہے۔ ہم اس بارے میں ایمس سے دریافت کریں گے اور سبھی پانچ معاملوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ اوراس کے وکیل کو دہلی منتقل کرنے کے سلسلے میں حکم دیں گے۔ ڈاکٹر بہتر جج ہوتا ہے۔ وہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ متاثرہ اور اس کے وکیل کو دہلی ائر لفٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔”

جسٹس گوگوئی نے متاثرہ کی ماں کی جانب سے لکھے گئے خط کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ خط ان تک کیوں نہیں پہنچا؟ بنچ نے اعلی عدالت کے سکریٹری جنرل کو سات دنوں کے اندر یہ جانچ کرنے کا حکم دیا ہے کہ خط دیر سے پہنچنے میں کسی رجسٹری افسر کی کوئی غلطی تو نہیں ہے۔ یہ جانچ چیف جسٹس کے ذریعہ مقررکردہ ایک موجودہ جج کی دیکھ ریکھ میں کی جائے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close