تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

امریکی ثالثی کا معاملہ ہندوستان نے شروع کیا: قریشی

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر پر امریکی ثالثی کے سلسلے میں یہ کہتے ہوئے ایک بار پھر تنازعہ پیدا کردیا ہے کہ امریکی ثالثی کی تجویز ہندوستان کی جانب سے پیش کی گئی تھی لیکن اب ملک کے سیاسی حلقوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر اعتراض کے بعد مودی حکومت اب اس سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو یہ باور کرایا ہے مسئلہ کشمیر ایک ایسا نقطہ اشتعال ہے جسے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے 23 جولائی کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کے ثالثی کے دعوی کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ کشمیر دونوں فریقوں کا باہمی مسئلہ ہے۔

جنوبی اور سینٹرل ایشیائی امور کے قائم مقام اسسٹنٹ سکریٹری الیس ویلس نے ٹوئٹ میں کہا تھاکہ ’’کشمیر دونوں فریقوں کا باہمی مسئلہ ہے، ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میٹنگ کا خیر مقدم کرتی ہے اور امریکہ اس سلسلے میں تعاون کے لئے تیار ہے۔‘‘ صدر ٹرمپ کے بیان نے ہندوستان میں سنگین نوعیت کا تنازعہ پیدا کردیا تھا کانگریس نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا تھا کہ وہ لوک سبھا میں اس مسئلہ پر وضاحت پیش کریں۔

ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اپوزیشن کے ہنگامہ کی وجہ سے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ میں ایک جیسا بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ہندوستان کے ایک مستقل اور مستحکم پالیسی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کئےجائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کے ساتھ اسی وقت بات ہوسکتی ہے جب وہ سرحد پار دہشت کا خاتمہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کو باہمی طریقہ سے حل کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر جے شنکر نے واضح الفظ میں کہا تھا کہ ثالثی کے سلسلے میں امریکی صدر سے کسی طرح کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close