آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

امریکہ کی ایران کو سخت معاشی پابندیوں کی وارننگ

امریکہ نے اپنے مفادات کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائدکرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی نائب صدر مائیک پنس نےکہاکہ ’’میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ایران کو امریکی صبراورعزم کا امتحان نہیں لینا چاہئے۔ ہم بہتر کی امید کرتے ہیں، لیکن امریکہ اور اس کی فوج خلیجی خطے میں اپنے مفادات اورشہریوں کے تحفظ کےلئےہمیشہ تیار ہے‘‘۔

پنس نے یہ بات اسرائیل حامی عیسائی تنظیم ’کرسچیئن یونائیٹڈ فار اسرائیل‘ کی سالانہ کانفرنس میں کہی۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کی معیشت پر سخت پابندیاں مسلسل جاری رہیں گی۔
پنس کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران نے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی مقررہ حد سے تجاوز کر لیا ہے۔ ایران نے 3.67 فیصد کی مقررہ حد سے تجاوز کرکے اپنی یورینیم افزودگی 4.5 فیصد تک کر لی ہے۔ ایران کے جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بهروز كمال وندي نے یہ اعلان کیا۔
اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپيو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بھی ایران کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کی وارننگ دی۔

پومپيو نے کہا کہ ’’ہم نے ایران پر تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ دباؤ بنایا ہے اور ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں‘‘۔
بولٹن نے کہاکہ ’’ہم ایران پر تب تک دباؤ برقراررکھیں گے، جب تک وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو روک نہیں دیتا اور پوری دنیا میں دہشت گرد ی پھیلا اور اسے حمایت دینے سمیت مغربی ایشیا میں پرتشدد سرگرمیوں کو ختم نہیں کر دیتا‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ خلیج عمان میں گذشتہ ماہ آبنائے ہرمز کے قریب دو تیل ٹینکروں الٹیئراور كوككا كریجيس میں دھماکے کے واقعہ اور ایران کی طرف سے امریکہ کے انٹیلی جنس ڈرون طیارے کو مار گرانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
اس سے پہلے ایران نے اتوار کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کے تحت یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کرے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس اراغچي نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران اب بھی چاہتا ہے کہ جوہری معاہدہ قائم رہے لیکن یورپی ملک اپنی عہد بستگی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں ایران جوہری معاہدے سے اپنے ملک کو الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی تلخی آگئی ہے۔ اس جوہری معاہدے کے التزامات کو نافذ کرنے کے سلسلے میں بھی شک و شبہات کی حالت بنی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹیریس کا خیال ہے کہ ایران کے ان اقدامات سے نہ تو اس کے اقتصادی مفادات محفوظ ہوں گے اور نہ ہی اس کے عوام کو اس کا فائدہ ہوگا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close