اترپردیش

امروہہ: امبیڈکر نگر کے ایک جماعتی کا کورنٹائن میں انتقال، مشتبہ مریضوں کے ساتھ حکومت کا رویہ افسوسناک

امبیڈکر نگر کے ایک جماعتی کا کورنٹائن میں انتقال، کورونا کے مشتبہ مریضوں کے ساتھ حکومت کا رویہ افسوسناک، جماعت کے لوگوں کے خلاف کئے گئے مقدمات فورا واپس لئے جائیں، عید الفطر سے پہلے سب کا گھر بھیجنا یقینی بنایا جائے، جمعیت علماء امروھہ کا حکومت یوپی سے پرزور مطالبہ

امروہہ، (سالارغازی)
حفیظ اللہ پسر جناب عبید اللہ عمر 52 سال، ضلع امبیڈکر نگر (یو پی) کے رھنے والے جو گزشتہ 48 دن سے امروھہ میں کورنٹائن تھے آج رات تقریباً 12 بجے انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی کل ھی جمعیت علماء امروھہ کے وکلاء کے توسط سے ضمانت ھوئی تھی اور آج گھر جانے کی تیاری تھی، سینے میں کچھ درد اور بیچینی محسوس ھوئی، متلی ھوئی، پولس والے کورنٹائن سینٹر سے ضلع اسپتال لائے لیکن تھوڑی ھی دیر میں وہ وفات پاگئے۔

مرحوم کاروبار کی غرض سے سورت (گجرات) میں رھا کرتے تھے اور وھیں سے ایک جماعت کے ساتھ امروھہ آئے تھے اسی دوران لاک ڈاؤن کا اعلان ھو گیا جس کے نتیجے میں جو جہاں تھا وھیں رہ گیا، اس کے بعد تمام ساتھیوں کو کورنٹائن کیا گیا اور کورونا کی جانچ کی گئی، مرحوم کی شروع میں ایک رپورٹ پوزیٹو بھی آئی تھی لیکن اس کے بعد دو رپورٹیں نگیٹیو آئیں اور وہ صحت مند تھے بظاھر ھارٹ اٹیک کو موت کا سبب سمجھا جا رھا ھے صحیح صورت حال پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ھوگی۔ مذکورہ اطلاع سر پرست جمیعتہ علماء امروہہ و صدر مدرس اور ناظم تعلیمات مدرسہ جامعیہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ مفتی سید محمد عفان منصور پوری نے جاری بیان میں دی ہے.

مفتی سید محمد عفان نے مزید کہا کہ انتقال کے بعد مرحوم کے اھل خانہ سے رابطہ کیا گیا اور ان کی لاش آبائی وطن بھیجنے کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے مرحوم کی امروھہ ھی میں تدفین پر آمادگی ظاھر کی اور ضلعی انتظامیہ کو بذریعہ واٹسپ تحریر لکھ کر مرحوم کی لاش کو جمعیت علماء امروھہ کی زیر نگرانی مفتی محمد عفان صاحب منصور پوری کی تحویل میں دینے کو کہا چنانچہ پوسٹ مارٹم کے بعد نماز جنازہ ھوئی اور قبرستان شاہ ابن میں تدفین عمل میں آئی۔ اپنے گھر سے بہت دور مرحوم حفیظ اللہ صاحب کا انتقال اھل خانہ کے لئے بہت بڑا حادثہ ھے، انکو اگرچہ غریب الوطنی کی بنا پر مقام شھادت ملا اور پھر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں دنیا سے جانا نصیب ھوا لیکن یہ ھم سب کے لئے خاص طور پر ان کے ساتھیوں کے لئے بڑا تکلیف دہ مرحلہ ھے۔

معروف عالم دین مفتی سید محمد عفان نے سخت الفاظ میں مزید کہا کہ بہر حال ھوتا تو وھی ھے جو منظور خدا ھوتا ھے لیکن اس سلسلہ میں بیماری سے مقابلہ کرنے کے لئے حکومتی سسٹم اور نظام کی کمزوری اور ذمے داریوں کی ادائیگی سے لاپرواھی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، سب سے پہلی چیز تو یہ کہ کورونا کے مشتبہ مریض کے ساتھ وہ معاملہ کیا جاتا ھے جس وہ اپنے کو مجرم اور قیدی سمجھنے لگتا ھے، بار بار سیمپلنگ کرائی جاتی ھے، بے وجہ کورنٹائن کی مدت بڑھائی جاتی رھتی ھے اور پھر بغیر کسی جرم کے ان کے خلاف مقدمات قائم کردیے جاتے ھیں نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ اچھا خاصا تندرست آدمی بھی گھٹن محسوس کرتے ھوئے ذھنی تناؤ کا شکار ھو جاتا ھے۔ بولے جمعیتِ علماء امروھہ حکومت یوپی سے شدت کے ساتھ مطالبہ کرتی ھے کہ پورے صوبے میں جماعت کے لوگوں کے خلاف کئے گئے مقدمات کو فورا واپس لیا جائے اور کورنٹائن کی مدت پوری کر چکے لوگوں کو بلا تاخیر ان کے گھر بھیجا جائے ورنہ بے چینی برھنے کی وجہ سے حالات سنگین ھو سکتے ھیں اور مزید ناخوشگوار واقعات کے پیش آنے کا اندیشہ ھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close