اپنا دیشتازہ ترین خبریں

امت شاہ سے ملنے جا رہے مظاہرین کو پولیس نے روکا

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے وزیر داخلہ امت شاہ کی دعوت پر کہ کوئی بھی آکر مل سکتا ہے، اسے دعوت عام تصور کرتے ہوئے ان سے، ملاقات کرنے کے لئے جلوس کی شکل میں مارچ کرنے کی کوشش کی جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی۔

پولیس نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبہ کومتعلقہ حکام کو بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اجازت اور منظوری ملتی ہے ہم خاتون مظاہرین کو آگاہ کردیں گے اور پھر ملنے کے لئے جا سکتی ہیں۔ خاتون مظاہرین اور دبنگ دادیوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اقبال فیروز خاں، ایڈووکیٹ محمد انور اور ایڈووکیٹ فرید خاں نے بتایا کہ پولیس کے سامنے ہم مارچ کرکے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کا مطالبہ پیش کیا جس پر انہوں نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبے کو متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اس پر کوئی بات ہوگی آپ کو اطلاع دی کردی جائے اور اس وقت تک آپ مارچ نہ کریں کیوں کہ اس سے امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے ان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم امن و قانون سے کھیلواڑ کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور ہم قانون کا احترام کرتے ہیں۔ہم انتظار کریں گے۔

دبنگ دادیوں سے مارچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ سے ملاقات کرکے یہ بتاناچاہتی ہیں کہ ہمیں الگ الگ نہ کریں اور اس قانون کے سہارے اس ملک میں ہمیں ناٹنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پرامن طریقے سے مارچ کرکے ان سے ملنے جاناچاہتی ہے آخر وہ بھی ہمارا بیٹا ہی ہے۔ ہم ان سے کہیں گی کہ آپ اس کالا قانون کو واپس لے لیں ہم دھرنا سے ہٹ جائیں گی اور اپنے گھر وں کو چلی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ 90سال کی دادیاں بیٹھی ہیں انہیں ان کی فکر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مظاہرہ کرنا سب کا حق اور ہم لوگ اسی حق کا استعمال کر رہی ہیں۔

مظاہرین سے مارچ کی شکل ملاقات کرنے کی منشا کے بارے میں سوال کئے جانے پر محترمہ شاہین کوثر، محترمہ ملکہ خاں اور محترمہ نصرت آراء نے کہاکہ ہم لوگ دو ماہ سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ مگر کسی نے ہماری سدھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ دیر سے ہی وزیر داخلہ ہم سے بات کرنے کے لئے راضی ہوئے ہیں۔ اسی کو دعوت سمجھ کر ہم ان سے ملنے جانا چاہتی تھیں اور ہم لوگوں نے جامعہ نگر تھانہ سے اسی ضمن میں مارچ کے ساتھ جانے کی اجازت مانگ کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ احساس تھا کہ ہوسکتا ہے کہ پولیس ہمیں اجازت نہ دے لیکن ہم لوگ اپنا کام کرنا چاہتی تھیں اور یہ پیغام دینا چاہتی تھیں کہ شاہین باغ خاتون مظاہرہین ضدی نہیں ہیں اوروہ بات کرنے پر آمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگ قانون کا احترام کرنے والوں میں سے ہیں پولیس نے اجازت نہیں دی ہم رک گئیں، پولیس نے کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ملوانے کی کوشش کریں گے۔ البتہ خاتون مظاہرین کو اس بات پر ناراضگی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ملنے کے لئے کہا تو پھر ملنے کا وقت کیوں نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاجپت نگر آسکتے ہیں، ووٹ مانگنے کے لئے گھر گھر جاسکتے ہیں تو پھر ہم سے ملنے کے لئے کیوں نہیں آسکتے۔ کیا ہم لوگ دہشت گرد ہیں جو میڈیا کے ایک حلقے میں اس طرح کی بات کہی جارہی ہے۔

مارچ کی شکل میں ملنے پر بضد ہونے کے بارے میں جب یو این آئی نے سوال کیا تو ان خاتون مظاہرین جن میں ہندو خواتین بھی شامل تھیں،نے کہاکہ معاملہ کسی فرد یا ایک شاہین باغ کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے شاہین باغ کا ہے۔ اس شاہین باغ سے پورے ملک کا شاہین باغ منسلک ہے اس لئے صرف یہ شاہین باغ چند لوگوں کی شکل میں ملنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ وفد کی شکل میں پورے ملک کے شاہین باغ سے مشورہ کیا جائے گا اور پورے ملک کے شاہین باغ کے نمائندہ جمع ہوں گے اور پھرملاقات کے سلسلے میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ گزشتہ دو دنوں شاہین باغ میں خون کا عطیہ کیمپ لگاہوا ہے جسے اوم بلڈ بینک نے لگایا ہے جس میں اب تک سیکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے خون کا عطیہ دیا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو خون دیا جاسکے اور لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا۔

شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے باوجود مظاہر ہ جاری ہے۔

اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔

اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ سمیت ملک کے کونے کونے میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close