تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

افغانستان میں جنگ بندی خواب نہیں حقیقت: اشرف غنی

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بدھ کو کہا ہے کہ ملک میں جنگ بندی محض ‘خواب’ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

مسٹر غنی نے یہاں دہشت گردی کے خلاف منعقد پانچویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی راجدھانی دوحہ میں اتوار اور پیر کو ہوئے انٹرافغان کانفرنس میں ملک میں امن قائم کرنے اور تشدد کے خاتمہ کرنے کے سلسلے ایک روڈ میپ تیار کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیاہے۔یہ کانفرنس طالبان اور افغان وفد کو بھی قریب لایا ہے۔

سینیئر افغان سرکاری افسر نے اس کانفرنس میں اپنی نجی حیثیت سے شرکت کی۔صدرغنی نے کہا کہ“جنگ بندی ایک خواب نہیں ہے، ہم امریکہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم نے ثابت کردیا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغانستان‘ امن کے لئے تیار ہے۔” مسٹر غنی نے کہا کہ “امن کی جانب جانے والی سڑک نشیب وفراز اور رکاوٹوں سے بھری ہے۔” ہمارے پاس ملک میں امن تک پہنچنے کا بہترین موقع ہے۔” افغان حکومت کو اب تک امریکہ اور طالبان کے درمیان امن بات چیت سے باہر رکھا گیا ہے جو سال 2019 کی ابتدا میں شروع ہوئی تھی اور غیر ملکی فوجیوں کی واپسی پر توجہ مرکوز کیاگیا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اٖفغان حکومت کے ساتھ تب تک بات چیت شروع نہیں کریں گے جب تک غیر ملکی فوج کی واپسی کا وقت طے کئے جانے کا اعلان نہیں ہوجاتا۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن بات چیت کا ساتواں مرحلہ منگل کو ختم ہوگیا۔ اس بات چیت میں اٖفغانستان کے صلح کے لئے امریکی خصوصی وفد زلمے خلیل زاد نے قیادت کی۔ چین کے لئے روانہ ہونے سے پہلے مسٹر خلیل زاد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ اٖفغان امن عمل پر مزید بات چیت کرنے کے لئے واشنگٹن بھی جائیں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close