اترپردیشتازہ ترین خبریں

اعظم گڑھ: سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں پر غداری کا مقدمہ درج

20 گرفتار، ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام

اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع کے بلریاگنج میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) قومی شہری رجسٹر (این آرسی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف مظاہرہ اور ملک مخالف نعرے بازی کرنے کے الزام میں 35 نامزد اور سینکڑوں نامعلوم افراد کے خلاف غداری کا معاملہ درج کیا گیا ہے اور ان میں سے 20 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ تروینی سنگھ نے بتایا کہ مولانا جوہر پارک بلریاگج میں منگل کو سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف مظاہرے کے لئے پہنچیں خواتین کی آڑ میں کچھ لوگوں نے ’ہم لے کر رہیں گے آزادی‘ کے نعرے لگانے کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ایک خاص کمیونٹی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کی۔ انہوں نے بتایا کہ فسادی لاٹھی ڈنڈوں، اینٹ پتھر کے علاوہ مہلک ہتھیاروں سے بھی لیس تھے۔ اس معاملے میں 35 نامزد اور سینکڑوں دیگر نامعلوم لوگوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ علماء کونسل کے قومی جنرل سکریٹری طاہر مدنی سمیت 20 افراد کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ اس معاملے میں علماء کونسل کے فرار لیڈر نورالہدیٰ، مرزا شان عالم اور اسامہ پر 25-25 ہزار روپے کا انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں……اعظم گڑھ: مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج، طاہر مدنی سمیت کئی گرفتار، ماحول کشیدہ

واضح رہے کہ اس سے پہلے جوہر پارک میں پولیس نے سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت کر رہی خواتین پر لاٹھی چارج اور پتھراؤ کیا۔ پولیس نے سویرے پارک کو خالی کرا کر اس میں ٹینکر سے پانی بھروا دیا تھا۔ جوہر پارک میں منگل کی صبح 11 بجے کے قریب کچھ خواتین سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج کرنے جمع ہوئی تھیں۔ رات تک ان کی تعداد دو ڈھائی سو کے قریب ہو گئی۔ رات دو بجے ڈی ایم اور ایس پی وہاں پہنچے اور خواتین کو سمجھا بجھا کر احتجاج ختم کروانے کی کوشش کرنے لگے، لیکن خواتین نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد پولیس اور خواتین کے درمیان کہا سنی ہونے لگی۔ جس پر پولیس نے مخالفت کر رہی خواتین پر لاٹھی چارج کر دیا۔ پولیس نے کہا ہے کہ خواتین نے پہلے ان پر پتھراؤ کیا، جبکہ خواتین کہتی ہیں کہ پولیس نے انہیں وہاں سے ہٹانے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔

پولیس کی جانب سے کی گئی لاٹھی چارج میں کچھ خواتین کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے تقریبا ڈیڑھ درجن نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہی لوگوں نے خواتین کو احتجاج کے لئے اکسایا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close