اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اعظم خان نے کا بی جے پی لیڈر پر نجی تبصرہ، لوک سبھا میں ہنگامہ

مسلم خاتون (شادی کا حق تحفظ) بل 2019 پر لوک سبھا میں جمعرات کو ہوئی بحث کے دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اعظم خان کے ایک تبصرہ پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا جس کے بعد ایس پی کے اراکین نے واک آوٹ کیا۔

مسٹر خان نے بل پر بحث کی شروعات ایک شعر سے کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’تو ادھر ادھر کی بات نہ کر، یہ بتا کہ قافلہ لوٹا کہاں‘ اس پر ڈپٹی اسپیکر رما دیوی نے ان سے کہاکہ آپ ادھر ادھر نہ دیکھیں بلکہ میری طرف دیکھ کر اپنا موقف رکھیں۔ اس کے بعد مسٹر خان نے ایک تبصرہ کیا جس کی حکمراں فریق کے اراکین نے سخت مخالفت کی اور کئی اراکین اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر ان سے معافی مانگنے کی مانگ کرنے لگے۔ محترمہ رما دیوی نے بھی ان سے معافی مانگنے کے لئے کہا لیکن مسٹر خان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور ہنگامہ بڑھ گیا۔

وزیر قانون روی شنکر نے بھی مسٹر خان کے تبصرہ پر کہا کہ ان کا تجربہ 19سال کا ہے لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسپیکر کے خلاف تبصرہ کیا گیا ہواور وہ بھی اس وقت جب سیٹ پر ایک خاتون اسپیکر ہوں۔ انہوں نے بھی کہاکہ مسٹر خان کو معافی مانگنی چاہئے۔

اس درمیان اسپیکر اوم برلا کرسی پر آگئے اور انہوں نے مسٹر خان کے تبصرہ کو کارروائی سے ہٹا دیا۔ انہوں نے ایس پی کے رکن سے اپنے تبصرہ پر وضاحت دینے کے لئے کہا جس پر مسٹر خان نے کہا کہ وہ طویل عرصہ سے عوامی زندگی میں ہیں انہوں نے کسی ارادہ سے اپنی بات نہیں کہی تھی۔ وہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے بات نہیں کہتے ہیں۔

ان کی ہی پارٹی کے اکھیلیش یادو اس دوران مسٹر خان کے تبصرہ پر کچھ کہنے کے لئے اٹھے لیکن بی جے پی کے اراکین شور و غل کرنے لگے جس کی وجہ سے انکی بات سنائی نہیں دی۔ اس کے بعد مسٹر خان پھر بل پر اپنا موقف رکھنے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن بی جے پی کے اراکین کی ٹوکا ٹاکی جاری رہی جس کے خلاف وہ ایوا ن سے واک آوٹ کر گئے۔ ان کے ساتھ ایس پی کے دیگر اراکین بھی ایوان سے چلے گئے۔

اس دوران بہوجن سماج پارٹی کے دانش علی بھی کہنا چاہتے تھے لیکن اسپیکر کی طرف سے اجازت نہیں ملنے پر وہ بھی اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ واک آوٹ کرگئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close