آپ کی آواز

اس شب کی سحر کب ہوگی؟

غورو فکر.............بشریٰ اِرم

زور زور کے دھماکہ کی آواز، اٹھتا دھواں اور منٹوں میں ان اعضاء کا جسم سے دور ہو کر کہیں اور بکھر جانا، جدا ہو جانا اس جسم سے جو ابھی تک اس کی پہچان تھیں، اسکا حصہ تھیں، جو ہنس رہا تھا بول رہا تھا اپنے بچوں کی ہنسی سن کر خوش تھا، اپنی شریک حیات سے بات کر دلی سکون محسوس کر رہا تھا، جسکے کانوں میں اسکی محبوبہ کی چوڑیوں کی کھنک گونج رہی تھی کیا دلکش اور خوبصورت احساس سے لبریز تھا وہ جسم اور اس میں موجود روح جسکی آنکھوں میں خوبصورت خواب تھے، اپنے عزیز وطن کی خدمت کی چاہ تھی، اس کی حفاظت اس کے تحفظ کو مستحکم بنانے کی چاہ تھی، اس کے لئے قربان ہو جانے کا عظیم جزبہ تھا اور یہی وہ جزبہ ہے جو ان جانباز جوانوں کے والدین کی زبان سے یہ الفاظ ادا کرواتے ہیں کہ ہم اپنے دوسرے بیٹے کو بھی ملک کیلئے قربان کر دیں گے، ہم ہزار بیٹے بھیجیں گے، یہ وہ والدین ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں اپنے بیٹوں کو وطن عزیز کیلئے قربان کر دیا، اپنے جزبات کو ملک کیلئے اپنے سینے میں دفن کر دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں بیٹوں سے زیادہ ہندوستان کی عظمت اس کی شان اس کی بقا سے محبت ہے اور اس محبت کی خاطر اپنی قیمتی شئے قربان کرنے میں ہمیں زرہ برابر بھی افسوس نہیں۔ ہم خوش ہیں کہ ہم نے اپنے بیٹوں کو اس کی آغوش میں سو جانے دیا ہے جو ساری دنیا میں امن ومحبت کا پیغام بانٹتی ہے اور اپنے زخموں پر آہ تک نہیں کرتی جسکی مٹی بہادری کا درس دیتی ہے جسے دنیا ہندوستان کے نام سے جانتی ہے.

چند ماہ سے ملک کی سیاست میں افراتفری کا ماحول قائم رہا ہے۔ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں موجودہ حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے جنوری میں اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا، اروند کیجریوال نے برسر اقتدار پارٹی کے صدر امت شاہ کے 50 سال حکومت کرنے کے خواب کو ہٹلر کی تدابیر سے منسلک کیا اور بتایا کہ ان کے اس خواب کے تعبیر کی حصولیابی صرف آئین میں تبدیلی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ممتا کے اس منچ سے سبھی مخالف پارٹیوں نے 2019 میں کسی بھی قیمت پر بی جے پی کے رتھ کو روکنے کا عزم کیا، اتر پردیش جو 2019 کے الیکشن کا رخ تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہاں کی دو خاص پارٹیاں آپس میں اتحاد کرکے کانگریس کو باہر کا راستہ دکھا دیتی ہیں لیکن راہل کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی اور وہ اعلان کرتے ہیں کہ یوپی کی تمام سیٹوں پر کانگریس اپنے دم پر انتخاب لڑے گی ان کے اس اعلان نے سیاسی پنڈتوں کو حیرت میں ڈال دیا کے 5 ریاستوں میں بی جے پی کی ہار نے راہل کو کچھ زیادہ ہی پر امید کر دیا ہے، لیکن اس اعتماد کا راز بہت جلدی فاش کر دیا گیا اور پرینکا کی سیاست میں اینٹری گرین سگنل میں تبدیل ہو گئی، اس اینٹری نے میڈیا کا سارا دھیان اپنی جانب مرکوز کر لیا اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں کو گہرا صدمہ لگا، بیرون ملک سے واپسی پر پرینکا اور راہل نے لکھنئو کی سڑکوں پر ریلی نکالی جہاں پرینکا نے تو لب کشائی نہیں کی لیکن بھائی راہل کے چوکیدار چور ہے کے نعروں سے لکھنو کی سڑکیں گونج اٹھیں۔ ویسے گزشتہ دنوں سے کانگریس اپنے ہر پروگرام کہ آخر میں چوکیدار چور ہے کی صدائیں ضرور بلند کرتی ہے۔ ویسے چندر بابو نائیڈو کے اے پی کو خاص درجہ دیئے جانے کے مطالبے نے بھی سرکار کو پریشان کر رکھا ہے اور اپوزیشن وہاں بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا، ان سب واقعات میں سب سے دلچسپ واقعہ بنگال کی سرزمین پر رونما ہوا جب ممتا دیدی نے چٹ فنڈ گھوٹالے کی تفتیش کیلئے گئے سی بی آئی افسروں کو ہی گرفتار کروا لیا اور تو اور انہوں نے اس پر بھی صبر نہیں کیا بلکہ رات کو ہی میٹرو سے حکومت کے خلاف دھرنے کی شروعات کر دی، میڈیا نے ان کے اس قدم کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ان کے خلاف خوب شور مچایا مگر دیدی تو دیدی ہیں اسلئے سپریم کورٹ کی دہلیز پر اپنی فریاد لے کر پہنچ گئیں جہاں سپریم کورٹ نے ان کے فیصلے پر اپنی رضامندی کی لہر لگا دی۔ سی بی آئی وہ ادارہ ہے جو اس سے پہلے دو سینئر افسروں کے آپسی تکرار کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہا تھا اور سی بی آئی افسروں کی منظر عام پر آنے والی اس طرح کی تکرار اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جسکا حل سرکار نے راتوں رات افسروں کی چھٹی اور تبادلے کے ذریعے نکالا تھا لیکن افسر راکیش استھانہ چونکہ عدالت کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے اپنی فریاد لے کر اسلئے عدالت کو مداخلت کرنی پڑی مگر عدالت کے فیصلے کے بعد بھی تبادلے اور ریزائن نے ہی سی بی آئی ادارے کو اس کشمکش سے نجات دی۔

16 ویں لوک سبھا میں سرکار کی جانب سے پیش کئے گئے دو بل بھی قانون کی شکل نہیں اختیار کر پائے جس میں سے ایک طلاق ثلاثہ پر پابندی سے متعلق تھا تو دوسرا آسام میں شہریت کے حقوق سے متعلق تھا۔ ویسے تو ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی کی بھی آمد پر کوئی پابندی نہیں ہے مگر یوگی آدتیہ ناتھ ممتا پر الزام لگاتے نظر آئے کہ انہوں نے بنگال کی سرزمین پر اترنے میں ان کے لئے بہت مشکلیں پیدا کیں اسلئے انہیں بنگال میں داخل ہونے کیلئے زمینی راستے کا استعمال کرنا پڑا، یوگی آدتیہ ناتھ کے اس الزام کو ممتا نے مسترد کردیا۔ حال ہی میں ایک اور واقعہ میڈیا کے کیمروں نے یہ بھی قید کیا کہ کس طرح اکھلیش اترپردیش میں الٰہ آباد یونیورسٹی کے پروگرام میں شامل ہونے سے روک دیئے گئے اور طیارے سے اتار دیئے گئے، سماجوادی کارکنان نے جس کے لئے سڑک سے پارلیمینٹ تک آواز بلند کی لاٹھی ڈنڈے کھائے اور سرکار کی نیت اس کی پالیسیوں پر سوال کھڑا کرتے ہوئے، یوگی کے اس قدم کو ایک تانا شاہ حکومت کی تاناشاہی قرار دے دیا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ان تمام مدعوں کے بیچ جو مدعا اب تک مدعے کی شکل میں قائم رہا جس کا حل پارلیمانی اجلاس کے آخری دن تک بھی حاصل نہ کیا جا سکا جس میں اتنے پیچ وخم ہیں کہ جسے سی اے جی رپورٹ بھی حل نہیں کرپائی وہ رافیل کا مدعا رہا۔ کیونکہ اس رپورٹ کے ایوان بالا میں پیش ہونے سے قبل تک جس شرح سے قیمت میں کمی ہونے کا دعویٰ سرکار کی جانب سے کیا جا رہا تھا یہ رپورٹ رافیل کی موجودہ قیمت کو اس شرح سے تقریبا 6 فیصد کی زیادتی یعنی کہ صرف 3فیصد کی کمی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ جو کہ سرکار اور سی اے جی رپورٹ کے دعوے میں تضاد کا مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ رپورٹ عوام کو تذبذب کا شکار اس لئے بھی بناتی ہے کہ یہ طیارے کی قیمت کا ذکر نہیں کرتی۔ جبکہ قیمتوں کے بغیر سی اے جی رپورٹ کے دلائل پر مضبوطی سے اپوزیشن کے لگائے الزامات پر سرکار دفاع کرنے میں کامیابی حاصل کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

رافیل پر میڈیا میں روز نئے نئے انکشافات ہوئے جس میں دی ہندو اخبار پیش پیش رہا اور عوام کو بدعنوانی سے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیا یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ جموں و کشمیر کے پلوامہ سے ایسی خبر آئی جس نے پورے دیش کو صدمے میں ڈال دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس درد نے ہر خبر اور ہر مدعے کو اپنے اندر سمیٹ لیا، کانوں میں صرف اس دھماکے کی گونج رہ گئی اور لبوں پر پاکستان سے بدلہ لینے کی فریاد، ہر شخص اس کوشش میں مبتلا نظر آ رہا ہے کہ کیسے ان خاندانوں کے زخموں پر مرہم لگایا جائے جو ہماری حفاظت کیلئے خود فنا ہو جاتے ہیں۔ جن کی مائیں، جن کے باپ، بیویاں، بچے ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ انکے اس شب کی سحر کب ہو گی، ان کا یہ انتظار کب ختم ہو گا اور کب ختم ہو گا جانوں کے ذائع ہونے کا یہ سلسلہ؟

(Writer: Bushra Iram……………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close