تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

اس سال 8050 افغانی شہری یا تو مارے گئے ہیں یا پھر زخمی ہوئے ہیں: اقوام متحدہ

افغانستان میں اقوام متحدہ امدادی مشن نے 10 اکتوبر کو اپنے سرکاری ویب سائٹ پر ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال جنوری سے ستمبرتک افغانستان میں 8050 شہری یا تو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ہیں۔ جس میں 2798 افراد مارے گئے جبکہ 5252 افراد زخمی ہوئے ہیں.

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مسلح تنازعہ کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتوں کی حالت ابھی بھی بہت گمبیر ہے. سال 2017 کی اسی مدت کے مقابلے میں اس سال پہلے 9 ماہ میں مارے گئے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو سال 2014 کے بعد اس دور کی سب سے زیادہ ریکارڈ ہے. اقوام متحدہ کی بدھ کو جاری تازہ رپورٹ میں یہ تفصیلات دی گئی ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ امدادی مشن (يوناما) کے سربراہ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے تاداميچي ياماموتو نے کہا کہ ’’افغانستان میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا ہے، لہذا اقوام متحدہ افغانیوں کے مصائب کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پر اور پرامن معاہدے کی اپنی مانگ کو دوہراتا ہے‘‘۔

’نیوز 8000 ڈاٹ کوم ‘کی رپورٹ میں مسٹر ياماموتو کے حوالہ سے کہا گیا کہ ’’سبھی فریق امن کی تمام اجتماعی کوششوں کے ذریعہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر سکتے ہیں اور انہیں ایسا کرنا چاہئے‘‘۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close