تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اسلام دنیا کا سب سے عظیم امن پسند مذہب ہے

دنیا میں امن کے قیام کےلئے غریب نواز عالمی امن کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے علمائے کرام کا خطاب

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دنیا میں امن و امان کا پیغام عام کرنے کےلئے آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے زیر اہتمام دہلی کے رام لیلا میدان میں ’خواجہ غریب نواز ورلڈ پیس کانفرنس و جشن صد سالہ امام احمد رضا‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت تنظیم کے قومی صدر مفتی اشفاق حسین قادری اور سرپرستی شیخ ابو بکر قادری مفتی اعظم کیرلا نے کی۔ نظامت کے فرائض مولانا سید قیصرخالد فردوسی،مولانا سخی خاں اور مولانا محمد عالم رضوی نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔

سنّی اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے زیر اہتمام سے منعقدہ اس عالمی امن کانفرنس میں مختلف ممالک اور ملک کے مختلف صوبوں سے آئے علمائے کرام نے جہاں دنیا میں امن کا پیغام دیا وہیں مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی، معاشی اور سماجی پسماندگی کے خاتمے کےلئے جامع منصوبہ بندی اپنانے پر بھی زور دیا، نیز مسلم دانشوران پر مشتمل ایک نگراں کمیٹی تشکیل دینے کی بات کی۔ علماء کرام نے اس عالمی امن کا نفرنس کے اسٹیج سے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وقف سروس کمیشن کی تشکیل بلاکسی تاخیر کے کی جائے تاکہ ریاستی وقف بورڈوں کو سی ای او کی شکل میں فل ٹائم مسلم آئی اے ایس افسران مہیا ہوسکیں۔ شیخ ابوبکر نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے تنظیم علمائے اسلام کو قومی سطح پر فعال کردار ادا کرنے کے لئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے دہشت گردانہ حملہ کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں اور عالمی دہشت گردی کے خلاف دنیا کے حکمرانوں سے متحد ہونے کی اپیل بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعہ پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے جبکہ ہم یہ کھلا ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلام دنیا کا سب سے عظیم امن پسند مذہب ہے۔ اسلام دشمن طاقتیں ایک پروپیگنڈہ کے تحت اسلام کی روح مسخ کر رہے ہیں یہ انسانیت اور امن عالم کے لئے تباہ کن طرز عمل ہے۔ کانفرنس کے روح رواں مفتی اشفاق حسین قادری نے سعودی ولی عہد کی آمد پر سوال کھڑے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواجہ غریب نواز اور امن کے پیامبر بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے والے ان کی انسانیت مخالف پالیسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ساتھ ہی ہندوستان میں آرایس ایس آئڈیا لو جی کو پنپنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے عملی اقدمات طے کرے یہی جانثار ان وطن کو بڑا خراج عقیدت ہوگا۔ کانفرنس میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر عدنان ابو الہائجہ نے فلسطین اور ہند کی دوستی کی بات کرتے ہوے کہا کہ ہندوستان نے فلسطین کے حق میں ووٹ کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ ظالم کے نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین میں صرف حقوق انسانی کا مسئلہ ہی نہٰں بلکہ زمین کے قبضہ کا بھی مسئلہ ہے جس پر اسرائیل برسوں سے قابض ہے اور فلسطینیوں کا خون بہا رہا ہے۔ ڈاکتر تسلیم میان نے کہاکہ ذکر خواجہ غریب نواز اور ذکر اعلی حضرت امام احمد رضا کے بغیر ممکن نہیں ہے، امام احمد رضا ورلڈ پیس کا نام ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر منان میاں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ صداقت کی لڑائی لڑی ہے، انہوں نے کہاکہ ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ پلوامہ کے معاملے میں ایسا نہ ہو کہ حکومت مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہو جائے۔ انہوں نے حکومت پر بھی طنز کرتے ہوئے کہاکہ ترقی کی باتیں صدر باتیں، مسلمانوں کی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہند مسلمانوں کو مل کر رہنا چا ہئے اگر ہم ممل کر نہیں رہیں گے تو امن ختم ہو جائےگا۔

کانفرنس میں علامہ سید بخاری کالی کٹ، عبدالحلیم ازہری، قاری محمد میاں مظہری، مولانا توصیف رضا، مولانا سید محمد قادری، مولانا سید جاوید نقشبندی، مو لانا فاروق نعیمی، سید وثیق وارثی، مفتی سرور علی، انقلاب نوری، مفتی اسرائیل، سمیت دیگر صوبوں سے آئے علماء کرام اور بیرون ممالک کی نمائندگی کرنے والے علمائے اہل سنت میں علامہ زبید الرضا ازہری(ویسٹ انڈیز)،شیخ اشرف آفندی نقشبندی(ترکی)،علامہ سید ظفر صادق شاہ (بنگلہ دیش)،ڈاکٹر محمد بشاری(ابوظہبی)کے علاوہ ماریشش،سری لنکا ،ساؤتھ افریقہ، مصر، مکہ معظمہ، نیپال کے علماء نے بھی دنیا میں امن و مان کے قیام کے قیام اور امن میں مسلمانوں کی نمائندگی پر خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر تنظیم کے سیکڑوں علما کے دستخطوں پر مشتمل دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ فتوی بھی جاری کیا گیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بنیادی مسائل کے حل پر ایک مشترکہ اعلانیہ بھی تنظیم کے جنرل سیکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے پڑھ کر سنایا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close