تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

اسلامی طرز تعمیر کا شاہکار…ابوجہ مسجد

افریقہ ایک پُراسرار بر اعظم ہے۔ اسے تا ریک بر اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کے قبائلی رسومات آج بھی دنیا کے لئے حیرت کے مظاہر ہیں۔ کسی زمانے میں افریقہ کی پر اسرار دنیا میں سحر و ساحری اور جادو گروں، عاملوں کا غلبہ تھا مگر جب اسلام کے قدم اس براعظم پر پہنچے تو سارا عقیدۂ ظلمت نابود ہو گیا۔ اسلام کے فروغ میں افریقہ کا اہم ترین رول رہا ہے۔ حضور اکرمؐ کے دور میں حضرت جعفرطیار کی قیادت میں حبشہ (اتھو پیا) کے فرماں روا نجاشی کے دربار میں ایک اسلامی وفد بھیجا گیا تھا، جہاں اس نے نجاشی کو پیغمبر ؐ اسلام کا پیغام سنایا اور مذہب اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی حضرت بلال ؓ دنیا کے اولین مؤذن ہیں، جنہوں نے کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تھی بلال ؓ بھی افریقہ سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ مختصر یوں کہ افریقہ سے عربوں کی نسبت قدیم رہی ہے اور اسی نسبت کی وجہ سے افریقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن کی خوشبو بھی افریقہ پہنچی اور مقامی تہذیب کے اشتراک سے اسلام یہاں اپنی ترویج و اشاعت کی منزلیں طے کرنے لگا اور وہاں مسجدوں کی تعمیر اسلامک سینٹروں کا قیام سے لے کر مسلم معاشرت کی فروغ کی راہیں نکلنے لگیں اور آج افریقہ کا ہر شہر اپنے اندر نہ صرف اپنے تشخص اور تہذیب کی خو۔بو رکھتا ہے بلکہ اس خو۔بو میں کہیں نہ کہیں اسلامی خوشبو کی لہریں بھی مؤجزن نظر آتی ہیں۔ زیرنظر مضمون افریقہ کے ملک نائیجیریا سے عبارت ہے، جہاں کا ابوجہ شہر اپنی تہذیبی تاریخی عناصر کے ساتھ سیاحوں کو اپنی سمت کھینچتا ہے مگر اس شہر کو دیکھنے والے اس وقت تک تشنہ لب رہتے ہیں جب تک وہ ابوجہ شہر کی نیشنل مسجد کو دیکھ نہ لیں۔ ابو جہ یونیورسٹی سینٹر کے وسط میں واقع ابوجہ نیشنل مسجد اسلامی طرز تعمیر کی ایسی انو کھی مثال ہے، جس کو دیکھنے کے لئے سیاحوں کا اک ہجوم رواں دواں نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ شاہ کار مسجد ابوجہ کے مقامی مسلمانوں کے نہ صرف ایک مقدس عبادت گاہ ہے بلکہ ابوجہ جیسے وسیع ترین شہر کے لئے بھی وقار کی علامت ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ مسلمان جہاں رہتا ہے وہاں اپنے دین کی فروغ کی راہیں بھی نکالتا ہے اور عبادت کے لئے مسجدیں بھی تعمیر کرتا ہے۔ ابو جہ نیشنل مسجد بلاشبہ ایک شاہکار مسجد ہے، جس کی خوبصورتی اور دلکشی فن تعمیرات کے ماہرین ہیں۔ حمیت ایمان کی بہترین دلیل ہے کوئی فنکار جب کسی فن سے روحانی طور سے وابستہ ہو جاتا ہے تو پھر ابوجہ نیشنل مسجد جیسی شاہکار مسجد وجود میں آتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں مسجد کی تعمیر سے لے کر اس جذبات کو لے کر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے جو نہ صرف فن تعمیرات کے طلبہ کے لئے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ یہ پیغام دیتی ہے کہ خستہ حال مسجدوں کی بھی نئے سرے سے تزئین و تجدید کرکے انہیں عصر حاضر کے مطابق قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ اللہ کے گھر کی تعمیر بہر صورت ایک عبادت ہے:

ایک دور اندیش حکمت عملی کے تحت ابوجہ سٹی سینٹر کو شہر کے وسطی علاقہ میں آباد کیا گیا تھا۔ یہاں پر واقع ابوجہ نیشنل مسجد طرز تعمیر کی ایک شاہکار ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اس شہر میں آئے اور اس مسجد کو نہ دیکھے۔ اکثر سیاح نہایت اشتیاق کے ساتھ اس مسجد کا دیدار کرنے کے لئے جوق در جوق آتے رہتے ہیں۔ ابوجہ اور اطراف کے لوگوں کے لئے نہ صرف یہ ایک عبادت خانہ ہے بلکہ اس وسیع ترین شہر میں اس مسجد کی خوبصورتی اور دلکشی بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

ایک دہائی تک اس خوبصورت اور نہایت عمدہ مسجد کے استعمال میں آنے کے بعد آہستہ آہستہ اس کی عمارت خستہ حال ہونے لگی تھی۔ بہت سے لوگوں کے لئے تعمیر کرایا جانے والا وضوخانہ ایک وقت ایسا آیا کہ جب وہ تقریباً منہدم ہو گیا تھا۔ وہاں پر تعمیر کرائے گئے کمرے دیدہ زیب نہیں رہے تھے۔اس مسجد کی چھت جگہ جگہ سے ٹپکنے لگی تھی اور پانی کا رساؤ اس قدر ہونے لگا تھا کہ اسے پلاسٹک کی بالٹیوں میں جمع کیا جانے لگا تھا تاکہ وہاں پر بچھی ہوئی دریوں اور قالینوں کو گیلا ہونے سے بچایا جا سکے اور کانفرنس روم تو اندھیری کوٹھری میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا علاوہ ازیں مسجد کی انتظامیہ قرض دار بھی ہو گئی تھی۔ چنانچہ مسلم طبقہ نے تعاون دینے کے لئے لوگوں سے اپیل کی تھی اور اس وقت کے سابق صدر اولوسگین اوبا سانجو (Olusegum Obasanju) جو کہ نائیجیریا کے فوجی جنرل اور ملک کے صدر تھے، انہوں نے اس جانب توجہ دی تھی۔ 2006 میں اولوسگین نے اس کارخیر کے لئے چندہ جمع کرنے کی ایک مہم چلائی تھی، جس میں مشاہیر سیاستدانوں نے نہایت لگن کے ساتھ اس مہم میں شرکت کرکے خطیر رقم جمع کر لی تھی تاکہ خستہ حال مسجد کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔ ان لوگوں کی کوشش سے کئی ملین تک نیرا (Naira) یعنی نائجیریا کی کرنسی جمع ہو گئی تھی۔ ویکلی ٹرسٹ میگزین کے حوالے سے مسجد کے انتظامی سیکریٹری مالم جفارو (Malam Jafaru) نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ چندہ ہونے سے 2.1 بلین نیرا سے زیادہ رقم جمع ہو گئی تھی۔ اس رقم میں سے 650 ملین نیرا نقد تھے جبکہ بقیہ رقم کے لئے وہاں کے لوگوں نے پختہ یقین دہانی کرا دی تھی۔

کسی زمانے میں اس مسجد کو نیشنل مونومنٹ قرار دیا گیا تھا اور اس کی تعمیر 1993 میں کرائی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کی شروعات 1981 کو اس دور سے منسوب کیا جاتا ہے جب مرحوم سلطان آف سوکوتو (Sokoto)، الحاج ابو بکر صدیق سوئم نے الحاج عمر مصطفیٰ الکانیمی جوکہ برینو کے شیسو تھے، نائیجیریا کی انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل افیئرز لاگوس (Lagos) سے ایک ایسی عمارت تعمیر کرانے کی اپیل کی تھی جوکہ ابوجہ شہر راجدھانی کی شان و شوکت کے مطابق ہو۔ اس مسجد کی تعمیر کرنے کے کام کا جب آغاز ہوا تھا تب تک 1397,768 نیرا جمع ہو چکے تھے اور انفرادی طور پر سب سے زیادہ عطیہ الحاج امینود نتاتا (Aminu Dantat) جوکہ نائیجیریا کے ایک تاجر اور انسانی بہبود کے معروف کا رکن تھے، نے دیا تھا۔ علاوہ ازیں دوسری خطیر رقم جس کو ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی وہ الحاج شیہو شگاری (Shehu Shegari) کی قیادت میں وفاقی حکومت نے 10,000,000 نیرا کی ادائیگی کی تھی۔ اتنی خطیر رقم جمع کرانے کے تعلق سے مرحوم میجر جنرل شیہو موسیٰ یار عدوا (Shehu Musa Yar’ Adua) کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ وہ مسجد تعمیر کرانے والی کمیٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین تھے۔ اس مسجد کی تعمیر کرنے والا اہم ٹھیکیدار اطالوی کثیرملکی تعمیراتی کمپنی لو ڈی گیانی (نگ) لمیٹڈ (Lodigiani(Nig)Ltd) سے وابستہ تھا، جس کی نگرانی اے آئی ایم نسلٹیسنی نے کی تھی چنانچہ اصل تعمیراتی کام 1982 میں شروع ہوا تھا۔

ہفت روزہ ’ویکلی ٹرسٹ‘ کے مطابق اس مسجد کے اہم فرش پر 10,000 نمازیوں کے ذریعہ نماز ادا کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس مسجد کے دائیں اور بائیں جانب دوسری منزل کے فرش کے اوپر گنبد تعمیر کرایا گیا اور اس کے عقب میں خواتین کے ذریعہ نماز ادا کرنے کا گوشہ مختص کیا گیا تھا جہاں پر 3500 اضافی نمازیوں کے ذریعہ نماز ادا کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اس مسجد کا سب سے زیادہ دلکش پہلو یہاں کا صحن ہے، جہاں پر اضافی 50,000 نمازی جمعہ کی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کے ایگزیکیٹو سکیرٹری پروفیسر ابراہیم موکوچی نے بتایا تھا کہ اپریل کے شروعاتی ایام میں ہی اس مسجد کی تعمیر کا 35 فیصد کام مکمل ہو گیا تھا جبکہ ٹھیکیدار نے اس کام کو 50 فیصد سے زیادہ قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ ابوجہ میونسپل ایریا نائیجیریا کی راجدھانی ہے۔ یہ نائیجیریا کے وفاقی خطہ کے وسطی علاقہ میں واقع ہے۔ ابوجہ ایک منصوبہ بند شہر ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر 1980 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا اور گزشتہ راجدھانی لاگوس (Lagos) کے رول کو تبدیل کرکے اسے 12 دسمبر 1991 میں نائیجیریا کی راجدھانی قرار دیا گیا تھا۔ 2006 کی مردم شماری کے مطابق وفاقی راجدھانی خطہ کی آبادی 788,567 نفوس پر مشتمل تھی۔

ابوجہ کے جغرافیہ کی تشریح ایسوراک (Aso Rock) کے ذریعہ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پانی کے کٹاؤ کی وجہ سے 400 میٹر کا پتھریلا علاقہ باقی رہ گیا تھا۔ صدارتی کمپلیکس، قومی اسمبلی، سپریم کورٹ اور شہر کے باقی بچے حصہ کی جنوبی چٹان کی جانب توسیع کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب دیکھنے پر نائیجیریا کی قومی مسجد دکھائی دیتی ہے۔ افریقہ میں ابوجہ کثیر مقاصد کے لئے بانٹے گئے ایک شہر کے طور پر معروف ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک خوشحال اور مہنگا شہر ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس شہر کے نیم ترقی یافتہ دور میں یہاں کی آبادی نے غرباء کی بستیوں میں زندگی گزاری تھی۔ کارو (Karu) ان میں سے ایک ایسی بستی رہی تھی جس میں راجدھانی کے ملازمین اور کم آمدنی والے خاندان کے افراد رہائش پذیر تھے۔

نائیجیریا میں نسلی اور مذہبی تفریق کے پیش نظر ایسا پلان مرتب کیا گیا تھا کہ ایسے مقام پر راجدھانی قائم کی جائے جوکہ تمام طبقات کے لئے غیر جانب دار تصور کی جائے۔ چنانچہ 1970 کی ابتدائی دہا ئی میں ملک کے وسطی علاقہ میں ایسے مقام کی نشان دہی کی گئی اور راجدھانی قائم کی گئی جو غیر جانب داری، وطن پرستی اور اتحاد کی علامت ہو۔ ابو جہ شہر کو ایک دیگر تحریک اس وجہ سے بھی ملی تھی کہ لاگوس کی آبادی یہاں منتقل ہونے کی وجہ سے شہر کافی گنجان ہو گیا تھا جس کی وجہ سے یہاں نہ صرف غربت میں اضافہ ہو گیا تھا بلکہ باشندوں کی وجہ سے یہاں پر گندگی بھی پھیل گئی تھی اور یہاں پر برازیل کی ان عمارتوں کی مانند حالت ہو گئی تھی جوکہ راجدھانی برازیلیا (Brasilia) میں واقع ہیں۔ 1970کی آخری دہائی میں تعمیرات کے لئے یہاں کی زمین میں کھدائی ہونے لگی تھی لیکن اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ابتدائی مرحلہ میں شہر میں تعمیراتی کام آخری دہائی تک مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

ابوجہ شہر کے لئے ماسٹر پلان میں اس کی ساخت اور ہئیت کی تشریح کر دی گئی تھی اور ٹرے ڈیزائن کے عناصر کی عکاسی کر دی گئی تھی تاہم اس شہر کے ڈیزائن کو مزید بہتر بنانے کا کام جاپان کے معروف آرکیٹیکٹ کینزوٹینگے (Kenzo Tange) نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس شہر کے منصوبہ کاروں کے ساتھ مکمل کر لیا تھا۔ بہت سے ملکوں نے اپنے سفارت خانوں کو ابوجہ شہر میں منتقل کر دیا تھا اور اپنے بڑے سفارت خانوں کو قونصل خانوں کے طور پر اقتصادی راجدھانی لاگوس میں برقرار رکھا تھا۔ علاوہ ازیں اقتصادی کمیونٹی آف افریقی ریاستوں یا (ECOWAS) کے ابوجہ شہر میں ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس شہر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں پر اوپیک OPEC کا علاقائی ہیڈ کوارٹر بھی قائم ہے۔ ابوجہ اور ایف سی ٹی (FCT) کی آبادی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ایسی رپورٹ بھی دی گئی ہے کہ ابوجہ کے اطراف میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر آبادی میں 20 فیصد سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہاں پر یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ اس شہر کی حدود کے اندر اور باہر غرباء کی منتشر بستیاں اور غلاظت زدہ قصبات کی تیزی کے ساتھ بساوت ہو رہی ہے۔

اس شہر کو پانچ اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے جوکہ ایک فیز (Phase) کے تحت آتے ہیں اس میں وسطی علاقہ، گارکی (Garki) ووسے (Wuse) میتامہ (Maitama) اور اسوکورو (Asokoro) شامل ہیں۔ فیزدو میں بھی پانچ اضلاع ہیں، جن کے تحت کادو (Kado) ڈرومی (Durumi)، گودو (Gudu) اتاگو (Utako) اور جابی شامل ہیں جبکہ فیزتین کے اضلاع میں مابوچی (Mabuchi) کتامپے (Katampe) ووئے (Wuye) اور گواریپا (Gawaripa) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر پانچ نیم شہری اضلاع بھی ہیں، جن میں نیا نیا (Nayanya)، کارو(Karu) گواج ولادا (Gwajwalada)، کوبوا (Kubwa) اور جکووئی (Juk Woyi) شامل ہیں۔

ابوجہ سے ایئرپورٹ کی جانب جانے والے روڈ کے دونوں اطراف میں حاشیہ برداروں اور ملازموں کی جھگی نما کثیر تعداد میں بستیاں بسی ہوئی ہیں۔ ان میں سے لگبے (Lugbe)، چیکا (Chika) کو جکووورو (Kuchigworo) اور پیاکاسہ (Piyakassa) قابل ذکر ہیں۔ ملازموں کی ایک دیگر بستی ایدو (Idu) ہے جو کہ خصوصی طور پر اہم صنعتی علاقہ میں بنی ہوئی ہے پاپے (Mpape) کریمور (Karimu)، گواگوے (Gwagwa) ڈی ڈی (Dei-Dei) میں بین الاقوامی مویشی مارکیٹ ہے۔ یہاں پر اس شہر میں سازو سامان کی ایک انٹرنیشنل مارکیٹ بھی ہے، جہاں پر سیاح اکثر اپنی ضروریات کا سامان خریدتے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ زیادہ تر سیاح ابوجہ مسجد کی دلکشی اور اس کی شان و شوکت کا دیدار کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ اس نے افریقہ کے دور دراز علاقہ میں اسلام کا پرچم بلند کر دیا جوکہ نہ صرف اہل ایمان کو فرحت بخشتا ہے بلکہ غیر مسلموں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close