تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

اسلامی حمیت کی روشن مثال……ہانگ کانگ کی کولون مسجد

اسلام اور مسلمان ہر دور میں معتوب زمانہ رہے ہیں، اسلامی پیغامات اور قرآنی احکامات کو توڑ مروڑ کرکے اسلام اور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے مگر یہ خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ جس طرح اسلام کی شبیہہ بگاڑنے کی سعی ہوئی قرآنی کلمات کی بعض آیات اٹھا کر اسلام پر انگلیاں اٹھائی گئیں، اسلام مزید پھلتا پھولتا گیا۔ قرآن کو سمجھنے کا میدان ہموار ہونے لگا اور پھر بڑی تعداد میں وہ لوگ دائرۂ اسلام میں آنے لگے جو کل تک اسلام اور قرآن کو نشانہ بناتے تھے اور یہ بھی قرآن کا اعجاز اور اسلامی پیغامات کا نتیجہ ہے کہ جیسے جیسے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی اور وہ جس ملک میں گئے۔ وہاں انہوں نے دین کی تبلیغ کا کام بھی جاری رکھا۔ اشا عت اسلام کے لئے اسلامی سینٹر، دینی مدرسوں کی تشکیل اور مسجدوں کی تعمیر کے کام کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام مشرق سے مغرب، جنوب سے شمال تک اپنی حقانیت کی ضو فشانی کر رہا ہے۔ زیر نظر مضمون ہانگ کانگ کی مسجد کی تعمیر و تشکیل پر محیط ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے جس طرح اس مسجد کی تعمیر میں تاریخ ساز رول ادا کیا وہ بھی ایک مثال ہے اور ہمیں یہ حوصلہ دیتا ہے کہ نامساعد حالات میں بھی مسلمان اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے کو شاں رہتا ہے تو اس کو اللہ کی مدد بھی ملتی ہے اور دیگر قوموں پر اسلام کی حقانیت کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ بہر حال، ہانگ کانگ کی قدیم ترین مسجد دنیا میں ایک اہمیت کی حامل ہے۔ اس مسجد کو 1905 میں ازسر نو تعمیر کیا گیا تھا جسے حکومت نے آثار قدیمہ کے طور پر تحفظ بھی دیا تھا۔ یہ مسجد ہانگ کانگ کے مسلمانوں کی ایمانی حمیت کی بھی روشن مثال ہے اور اسلامی طرز تعمیر کا بہترین مظہر بھی ہے۔

دنیا کی تمام بڑی غیر مسلم طاقتوں نے جن میں یہود و نصاریٰ کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے اسلام کی راہوں میں کانٹے بچھانے میں کوئی دقیقہ نہیں رکھا تھا۔ یہود و نصاریٰ کا یہ دعوی ہے کہ مقدس توریت اور انجیل بھی آسمانی کتابیں ہیں اور مقدس زبور کے تعلق سے یہ لوگ کچھ بھی نہیں کہتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم اور پیغمبر حضرت محمدؐ کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ یہ جواز بھی دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے قبل جو پیغمبر بھیجے تھے ان پر بھی مقدس کتابیں نازل ہوئی تھیں تو پھر آخری مقدس قرآن کریم کس لئے نازل کیا گیا تھا۔ اس کا حقیقی اور بالکل درست جواز علماء کرام کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے یہود و نصاریٰ کو واضح طور پر بتا دیا کہ حضور اکرم ؐ سے پہلے جن پیغمبروں پر مقدس کلام نازل ہوا تھا ان کی قوم نے ان میں اپنی مرضی اور آسانی کے مطابق تحریف کر دی تھی اور اسی لئے اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو آپؐ پر نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نزول کے وقت سے لے کر یوم آخر تک اس کے کلام میں کوئی تحریف نہیں کی جا سکتی جب حضور پاکؐ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ رب العالمین نے آپؐ کی راہیں ہموار کر دیں اور اسلام کو پوری دنیا میں فروغ حاصل ہونے لگا۔با جماعت نماز ادا کر نے کے لئے مسجدیں تعمیر کرا نے کا حکم دیا گیا۔ پوری دنیا میں مسجدوں کو قبلہ(خانہ کعبہ) رخ تعمیر کرانے کو لازمی قرار دیا گیا۔ آج پوری دنیا میں مسلم ممالک کے علاوہ غیر مسلم ممالک میں مسجدیں قائم ہیں۔ بہت سی مسجدوں کا ذکر گزشتہ شماروں میں کیا جا چکا ہے۔ اس شمارے میں ہانگ کانگ کی ایک مسجد کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کہ اپنی مثال آپ ہے۔

ہانگ کانگ کی اولین مسجد جو کہ 1850 کی ابتدائی دہائی میں مقامی طور پر اسلامی عقیدہ کو متعارف کرانے کے فوراً بعد تعمیر کرائی گئی تھی۔ وکی پیڈیا (Wikipedia) کے مطابق کولون (Kowloon) مسجد اور اسلامی سینٹرہانگ کانگ میں واقع مسجدوں میں سے گرانقدر اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مسجد ناتھن روڈ (Nathan Road) اور ہیفونگ (Haiphong Road) روڈ کے کنارے پر واقع ہے کولون پارک کے نزدیک شہر میں یہ مسجد اسلامی عبادت کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہ مسجد کافی کشادہ ہے، جہاں پر بیک وقت 3000 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس مسجد کو پہلے 1896 میں اس جگہ پر تعمیر کرایا گیا جہاں پر آج سم ساسوئی (Tsim Sha Tsui) پولیس اسٹیشن واقع ہے۔ بنیادی طور پر یہ عمارت اس نظریہ کے تحت تعمیر کرائی گئی تھی کہ وہٹ فیلڈ کے برطانوی فوجی بیرکوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی فوجی ٹکڑیاں وہاں قیام کریں گی وہی جگہ اب کولون پارک سے منسوب کر دی گئی ہے۔ کولون جزیرہ کی گہما گہمی میں کولون پارک ایک پرسکون جگہ ہے۔ یہ پارک اب تازہ آب و ہوا اور فرحت بخش فضا کے علاوہ نادر پیڑ پودوں، عجیب و غریب جانوروں اور اپنے میناروں، گلیاروں اور چینی ساخت کے باغوں و دیگر روایتی عناصر کے لئے معروف ہے، جن کی جانب کثیر تعداد میں سیاح متاثر ہوتے ہیں۔

1970 کی آخری دہائی میں زیر زمین ماس ٹرانزٹ ریلوے (Mass Transit Railway) تعمیر کرانے کے دوران اس عمارت کے ڈھانچہ کو ذاتی نقصان پہنچا تھا۔ ایم ٹی آر کارپوریشن (MTR Corporation) کے ذریعہ ادا کئے گئے معاوضہ اور مسلمانوں کی جانب سے دیئے گئے عطیات سے موجودہ جگہ پر 1984 میں ناتھن روڈ پر ایک نئی مسجد تعمیر کرائی گئی تھی۔ چار منزلہ یہ مسجد 1500مربع میٹر رقبہ پر محیط ہے۔ اسی مسجد کا روایتی اسلامی ڈیزائن ہے، جس کو ماربل سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس مسجد کا آڑو (Peach) کی شکل کا گولائی نما گنبد ہے اور چاروں کونوں پر چار میناریں تعمیر کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مینار 11 میٹر اونچا ہے۔ اس مسجد میں ایک کمیونٹی ہال، نماز ادا کرنے کے تین ہال، ایک کلینک اور ایک لائبریری بھی ہے۔ پہلی منزل پر نماز ادا کرنے کے اہم ہال میں بیک وقت 1000 نمازیوں کے ذریعہ نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ خواتین کے ذریعہ نماز ادا کرنے کا ہال دوسری منزل پر ہے، جن کے چاروں جانب کھلا ہوا برآمدہ ہے۔ اوپر کے ہال میں ایک گنبد ہے، جس کا دائرہ 5 میٹر کا ہے اور اس کی اونچائی بھی کافی ہے۔

نئی مسجد کی عمارت جس کا ڈیزائن ہندوستان کے ایک معروف آرکیٹیکٹ آئی ایم قادری نے تیار کیا تھا۔ ہانگ کانگ میں مقیم مسلم طبقہ کی شاندار طریقہ سے نمائندگی ہوتی ہے۔ غیر معمولی تزئین کاری، روایتی اسلامی طرز تعمیر کی وجہ سے یہ مسجد قرب و جوار میں جدید ترین تجارتی عمارتوں میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس عمارت کی سب سے اہم خصوصیت اس کی 11 میٹر اونچی 4 میناریں ہیں، جوکہ اس مسجد کی چھت کے چاروں کونوں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ یہاں پر فرش اور عمارت کے سامنے والے حصہ میں سفید ماربل سے تزئین کاری کی گئی ہے۔ مفتی محمد ارشد جو کہ ہانگ کانگ کے امام اعظم ہیں وہی 2001 سے اس مسجد کے امام، خطیب ہیں وہ نہ صرف عربی زبان پڑھاتے ہیں بلکہ وہ جمعہ کا خطبہ عربی، اردو اور انگریزی میں بھی پڑھتے ہیں۔ مولانا قاری محمد طیب قاسمی ایک اسلامی اسکالر ہیں جو کہ 1989 سے ہانگ کانگ میں قیام پذیر رہے اور انہوں نے کولون مسجد اور اسلامی سینٹر میں پیش امام اور خطیب کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں تھیں۔ اس وقت وہ پورے ہانگ کانگ میں سات اسلامی سینٹر چلا رہے ہیں، جو طالب علم ہانگ کانگ کے مختلف اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکولوں کے اوقات کے بعد وہ تقریباً 1500 طلبا کو قرآن کریم کی تعلیمات سے آراستہ کر رہے ہیں۔

ہانگ کانگ ایک کثیر جہتی ثقافتی شہر ہے جہاں پر مختلف طبقات کی آبادی یکجہتی کے ساتھ رہتی ہے۔ تمام مذاہب کی رسم و روایات کے تئیں رواداری اس شہر کا ایک خاصہ ہے۔ اس شہر میں تمام لوگوں کے لئے یکساں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں ہانگ کانگ تمام لوگوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی ہے۔ ہانگ کانگ میں تقریباً 80,000 مسلمان ہیں، جن میں سے زیادہ تر چین نژاد ہیں۔ کئی صدیاں قبل عرب کے تاجروں نے چین میں مذہب اسلام کو متعارف کرایا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، ملیشیا، انڈو نیشیا، فلپائن اور مشرق وسطیٰ و افریقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی آباد ہیں۔ مسلم طبقہ نے وہاں پر اس وقت اپنی الگ شناخت قائم کی تھی جب وسطی 19ویں صدی میں ہانگ کانگ برطانیہ کے زیر تسلط آگیا تھا۔ اس وقت برطانونی حکمران ہندوستان سے مسلمان فوجیوں کو یہاں لائے تھے اور ان کے ہمراہ مسلمان تاجر بھی ہانگ کانگ آئے تھے جیسے ہی مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا تھا تو ان کا شمار الگ سے اقلیت کے طور پر ہونے لگا تھا۔ چنانچہ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو مسجدیں اور قبرستان تعمیر کرنے کے لئے اراضی الاٹ کر دی تھی۔ سال در سال جیسے جیسے مسلمان کثیر تعداد میں ہانگ کانگ آکر سکونت اختیار کرنے لگے تھے اسی اعتبار سے ان کی شناخت ہونے لگی تھی۔ ان ہی میں چینی مسلمان بھی تھے جو کہ مین لینڈ (Main land) سے آئے تھے۔

جامعہ مسجد جس کو 1890 میں 30 شیلے اسٹریٹ (Shelley Street) پر تعمیر کرایا گیا تھا 1905 میں اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی جس کے بارے میں ایسا کہا جاتا ہے کہ ہانگ کانگ میں یہ ایک ایسی قدیم ترین مسجد ہے جس کو وہاں کی حکومت تاریخی مسجد قرار دیتے ہوئے اس کی عمارت کو آثار قدیمہ کے طور پر تحفظ فراہم کیا ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں اس کی تزئین کاری کی گئی تھی اور ایسا منصوبہ بھی زیر غور ہے کہ اس سے متصل ایک اسلامک کلچرل سینٹر بھی تعمیر کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ 9 سال قبل دو دیگر مسجدیں مزید تعمیر کرائی گئی تھیں۔ ہانگ کانگ جزیرہ پر واقع مسجد عمار جو کہ عثمان رامجو صادق اسلامک سینٹر کا ایک حصہ ہے۔ اس کو ہانگ کانگ کے اس مسلم شخص کے نام سے منسوب کیا گیا تھا، جس نے اس مسجد کی تعمیر میں اقتصادی معاونت فراہم کی تھی۔ اراضی محدود ہونے کی وجہ سے یہ آٹھ منزلہ عمارت روایتی مورش (Moorish) ڈیزائن سے مختلف ہے۔ اسی وجہ سے اس میں ایک مینار ہے اور کوئی گنبد نہیں ہے۔ مسجد کے علاوہ یہاں ایک کمپلیکس ہے، جہاں پر کمیونٹی ہال واقع ہے۔ علاوہ ازیں ایک لائبریری، کانفرنس ہال، کلینک، یوتھ سینٹر، کینٹین اور مختلف دفاتر یہاں پر قائم کئے گئے ہیں۔

ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی بہت سی تنظیمیں ہیں۔ ان میں سے اسلامک یونین آف ہانگ کانگ، چینی مسلم کلچرل اسینڈ فریٹرنل ایسوسی ایشن (Chinese Muslim Cultural & Fraternal Association)، یونائیٹڈ مسلم ایسوسی ایشن آف ہانگ کانگ (United Muslims Association of Honk Kong)، ہانگ کانگ چائنیز اسلامک فیڈریشن، انٹرنیشنل اسلامک سوسائیٹی، پاکستان ایسوسی ایشن آف ہانگ کانگ لمیٹڈ، انڈین مسلم ایسو سی ایشن لمیٹڈ اور ہانگ کانگ دائودی بوہرا ایسو سی ایشن قابل ذکر ہیں۔ مقامی اسلامی امور کی گورننگ باڈی کو ہانگ کانگ انتظامیہ کے ذریعہ تسلیم کئے جانے پر ہانگ کانگ کے اسلامی کمیونٹی فنڈ کے ٹرسٹوں کو اس میں شامل کر لیا گیا تھا، جس کے دفاتر عثمان رامجو صادق اسلامی سنٹر وان چائی (Wan Chai) میں ہیں۔ ان مسجدوں اور قبرستانوں کے انتظام اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بورڈ آف ٹرسٹیوں کو دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریبات، عید الفطر اور عید الاضحیٰ بھی اس میں شامل کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ صدقات و زکوۃ کی رقوم کی نگرانی بھی ان کے ذریعہ کی جاتی ہے۔

کولون (Kowloon) مسجد دعوۃ کمیٹی کے سربراہ متین فاروقی جو کہ اس ٹرسٹ کے چیئر مین بھی تھے۔ پورے دن مسجد میں ان بنیادی انٹرمیڈئیٹ کو رسسز ان لوگوں کو درس دیتے ہیں جو خصوصی طور پر اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 7 سال قبل اسی نوعیت کا ایک نہایت اہم پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں دعوۃ کمیٹی کے ذریعہ ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس دوران نہ صرف مسجد کا معائنہ کرایا گیا تھا بلکہ رضاکاروں کے ذریعہ ایک غیر رسمی مذاکرہ بھی کرایا گیا تھا۔ اسلامی نوادرات کی نمائش بھی اس پروگرام کا ایک حصہ تھا اور قرآن کریم کے نسخوں کے ساتھ مختلف موضوعات مذہبی کتابیں بغیر ہدیہ تقسیم کی گئی تھیں۔ بے شک یہ پروگرام مفتی محمد ارشد، دیالو (Diallo) محمد علی، وعیل (Weal) ابراہیم، حافظ صداقت خاں ناصر ال مرشدی، زرینہ ہو (Zarinah Ho)، نادیہ کمال اور ڈاکٹر حق محمد کی مشترکہ کاوشوں کا ثمرہ تھا۔

اس کورس کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے والے شرکاء کو اسناد تفویض کی گئی تھیں۔ شرکاء کی محنت اور لگن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی حاضریاں کسی بھی صورت میں 70 فیصد سے کم نہیں تھیں محمد ارشد نے احادیث جمع کرنے سے متعلق موضوع کا احاطہ کیا تھا اور اسلام میں احادیث کی اہمیت پر مفصل روشنی ڈالی تھی۔انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی کہ احادیث یکجا کرنے کا عمل کس نوعیت کا تھا۔ احادیث کی درجہ بندی کس طرح سے کی گئی اور زندگی میں احادیث کی اہمیت کتنی ضروری ہے۔ انہوں نے اسلامی معیشت اور سیاست پر بھی نہایت بلیغ انداز میں بیان دیا تھا، جس کے تحت اسلام میں دولت کا نظریہ، بیاج(ربا)، معاشی مساوات، اسلامی اقتصادیات اور اسلامی ریاست جیسے موضوعات کا احاطہ بھی کیا گیا تھا۔

محمد علی نے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی حیات مبارکہ سے متعلق موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ آپؐ ایک روحانی پیشوا اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کے علاوہ ایک اعلی ترین قائد تھے۔ آپ لوگوں کو درس دینے والے ایک ایسے نبی تھے جو کہ رحمدلی سے معمور ایک بے مثال پیغمبر تھے۔ دوسری جانب وعیل ابراہیم نے اسلام میں حضرت عیسیؑ سے متعلق موضوع پر روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے دستاویزات کے حوالے سے اس موضوع پر روشنی ڈالی تھی اور اللہ تعالیٰ کے مبارک کلام کی حقانیت پر قرآن کریم اور مقدس انجیل سے حوالے جات کے توسط سے نہایت دانشورانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہو جاتا ہے کہ جس طرح بہت سے عجمی ممالک میں عرب تاجروں کے توسط سے جس طرح اسلام ظہور پذیر ہوا اسی طرح سے ہانگ کانگ میں بھی ہوا۔ بہرکیف کولون مسجد آج بھی ہانگ کانگ میں اسلامی حقانیت کی ایک درخشاں مثال ہے۔

([email protected])

مسلمانوں کا عالمی منظرنامہ……………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close