تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اروند کیجریوال کے ساتھ 6 وزراء کی حلف برداری

عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اتوار(آج) کو مسلسل تیسری بار وزیراعلی کے عہدے کا حلف لیا۔ تاریخی رام لیلا میدان میں پارٹی کے ہزاروں حامیوں اور بڑی تعداد میں معزز شخصیات کی موجودگی کے درمیان نائب گورنر انل بیجل مسٹر کجریوال کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر کجریوال کے بعد نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، ستیندر جین، گوپال رائے، کیلاش گہلوت، عمران حسین اور راجندر پال گوتم کو مسٹر بیجل نے وزارت کے عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔

یاد رہے کہ سابقہ مدت کار کے دوران مسٹر کیجریوال کا مرکزی حکومت کے ساتھ مختلف معاملوں پر اختلاف رہا۔ لیکن آج سی ایم کیجریوال نے اپنے خطاب میں کہاکہ ’’انتخابات میں ملی جیت دہلی کے شہریوں کی جیت ہے۔ بھلے ہی کسی نے کسی پارٹی کو ووٹ دیا ہو۔ میں سب کا وزیراعلی ہوں۔ سب میرے کنبے کا حصہ ہیں۔ میں سب کا کام کروں گا‘‘۔ سی ایم کیجریوال کے ساتھ ان کی پرانی کابینہ کے چھ وزراء یہ ہیں:

منیش سسودیا: انا تحریک میں اروند کیجریوال کے اہم ساتھی اور دہلی کابینہ میں نائب وزیر اعلی رہے منیش سسودیا کی شبیہ ایک سماجی کارکن اور ایماندار سیاست داں کے طور پر رہی ہے۔ انہوں نے سابقہ مدت کار کے دوران دہلی کے نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم کے طور پر دہلی کے سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کو بہت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں کتابیں پڑھنا، شطرنج کھیلنا اور سفر کرنا بے حد پسند ہے۔

مسٹر سسودیا کی پیدائش اتر پردیش کے ہاپوڑ ضلع کے پلكھوا گاؤں میں پانچ جنوری 1972 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام دھرم پال سنگھ ہے۔ مسٹر سسودیا نے 1993 میں بھارتی ودیا بھون سے ماس کمیونی کیشن میں ڈپلوما کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز صحافی کے طور پر کیا۔ انہوں نے 1997 سے 2005 تک زی نیوز میں نیوز میکر اور نیوز ریڈر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو میں ’زیرو اور‘ پروگرام کی میزبانی بھی کی۔ مسٹر سسودیا نے 2006 میں پبلک كاز ریسرچ نامی فاؤنڈیشن قائم کیا۔

سال 2011 میں مسٹر سسودیا نے ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ انا ہزارے کی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سال 2012 میں منیش سسودیا نے پراپنے دوست اروند کیجریوال کے ساتھ مل کر سیاسی پارٹی عام آدمی پارٹی (عآپ) تشکیل دی۔ سال 2013 میں پٹ پڑ گنج اسمبلی سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار نَكل بھاردواج کو شکست دے کر پہلی بار رکن اسمبلی بنے اور سال 2015 میں پٹ پڑ گنج سے دوبارہ انتخابات جیت کر پہلی بار دہلی کے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔ مسٹر سسودیا نے اس بار پٹ پڑ گنج اسمبلی سیٹ سے ہی الیکشن لڑا اور بی جے پی کے رویندر سنگھ نیگی کو 3207 ووٹوں سے شکست دی۔ وہ مسلسل تیسری بار اس سیٹ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پریورتن نامی ایک غیر سرکاری تنظیم میں رضاکار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

عمران حسین: عام آدمی پارٹی کے نئی دہلی کے بلی ماران اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی عمران حسین کالج کے دنوں سے ہی سماج کے مظلوم اور محروم طبقے کے درمیان بیداری پھیلانے میں سرگرم رہے اور ضرورت مند لوگوں کو سماجی انصاف دلانے کےلئے ہر ممکن کوشش کی۔ مسٹر حسین نے اتوار کو دوسری بار وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتاپارٹی کی لتا کو 36172 ووٹوں سے ہرا کر بلی ماران سیٹ پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔

مسٹر حسین کی پیدائش نئی دہلی میں 21 مئی 1981 کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم دریاگنج کے کریسینٹ اسکول میں ہوئی تھی۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بزنس اسٹڈیز میں گریجویٹ کی ڈگری لی۔ اس کے بعد انہوں نے کپڑے کا خاندانی خام سنبھال لیا۔ وہ شروعات سے ہی پرانی دہلی کے مظلوم اور محروم لوگوں کے درمیان سماجی اور سیاسی بیداری کی تشہیر میں سرگرم تھے۔ انہوں نے نوجوان لیڈر کے طورپر ضرورت مند لوگوں کو سماجی انصاف دلانے کےلئے ہر ممکن کوشش کی۔

مسٹر حسین کا سیاسی کریئر اپریل 2012میں شروع ہوا جب انہوں نے بلی ماران سے راشٹریہ لوک دل کے کونسیلر کا الیکشن جیتا۔ وہ ایک دور مدت تک رکن اسمبلی بھی رہے۔ انہوں نے 2015 میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی الیکشن جیتا جس کے بعد دہلی کے فوڈ اینڈ سول سپلائی وزیر بنے۔

ستیندر جین: صحت کے شعبہ میں محلہ کلینک کے تصور کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اتوار کو تیسری بار وزیر کے عہدہ کا حلف لیا۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں مسٹر جین نے شکور بستی سیٹ سے بی جے پی کے ایس سی وتس کو 7592 ووٹوں سے شکست دی۔ مسٹر جین کو گزشتہ حکومت میں صحت کے ساتھ ساتھ وزارت صنعت کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔ مسٹر جین نے انا ہزار ے کے جن لوک پال تحریک میں سرگرم حصہ لیا تھا، جہاں وہ کیجریوال کے رابطہ میں آئے۔

اترپردیش کے باغپت ضلع میں تین اکتوبر 1964کو پیدا ہوئے مسٹر جین نے بھی اپنی سیاسی زندگی کے شروعات اناہزارے کی تحریک سے ہی کی۔ مسٹر جین تعمیرات عامہ محکمہ (سی پی ڈبلیو ڈی) کے ملازم تھے۔ انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ کر ایک آرکٹک کنسلٹنگ فرم قائم کی تھی۔ مسٹر جین سماجی فلاح وبہبود کے اداروں سے بھی وابسطہ رہے۔ معروف سماجی کارکن مسٹر جین نے چترکٹ میں واقع سماجی تنظیم’درشٹی‘ میں بھی کام کیا۔ یہ تنظیم بصارت سے محروم لڑکیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ وہ اسپرش نام کے ایک سماجی ادارہ سے بھی وابستہ رہے جو کہ ذہنی طورپر کمزور بچوں کے لئے کام کرتی ہے۔ مسٹر جین اپنے کنبہ کے ساتھ شمال مغربی دہلی کے سرسوتی وہار میں رہتے تھے اور اب سول لائنس کی سرکاری رہائش گاہ میں رہتے ہیں۔

گوپال رائے: عام آدمی پارٹی(آپ)کے بانی رکن اور پارٹی کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے بھی آْج وزیر کےعہدے کا حلف لیا۔ مسٹر رائے سی ایم کیجریوال کے ساتھ ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے دنوں سے ہی جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کریئر کی شروعات ایک طالب علم لیڈر کے طور پر کی تھی۔ انہوں نے بابرپور اسمبلی سیٹ سے بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے نریندر گوڑ کو 33062 ووٹوں سے ہرایا ہے۔

انہوں نے’’آزادی کے شہیدوں کا حلف لیا، جبکہ عام طور پر خدا کے نام پر حلف لیا جاتا ہے۔ وہ پچھلی حکومت میں لیبر، روزگار، ترقی اور عام انتظامیہ کے محکمون کی کمان سنبھال رہے تھے۔ گوپال رائے نے انا تحریک میں بھی فعال کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر رائے پارٹی کے سیاسی معاملوں کی کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔ پارٹی میں وہ پوروانچلی لوگوں کا ایک اہم چہرہ ہیں۔ اترپردیش کے مؤضلع میں 10مئی 1975 کو پیداہوئے مسٹر رائے آپ کی قومی مجلس عاملہ کے رکن بھی ہیں۔ مسٹر رائے الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ سیاست کی دین ہیں۔

مسٹر رائے سال 1993میں یونیورسٹی میں فعال سیاست کے دوران بائیں بازو تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن (اے آئی ایس اے )سے جڑے گئے۔ تنظیم میں ریاستی جنرل سکریٹری سمیت دیگر کئی اہم عہدوں پر رہے اور الہ آباد یونیورسٹی کے بعد آگے کی پڑھائی اور تنظیم کو قائم کرنے کے مقصد سے وہ لکھنؤ یونیورسٹی گئے۔یہ 1997کی بات ہے۔وہاں ان دنوں جرائم اور بدعنوانی شدید مسئلہ تھا۔وائس چانسلر کو ہٹانے سے لے کر شدید فوجداری الزامات والے 14طلبہ کو یونیورسٹی سے باہر کرنے کے لئے مسٹر رائے نے بھوک ہڑتال شروع کی۔ اس تحریک میں گوپال رائے کی جیت ہوئی تھی۔

کیلاش گہلوت: گزشتہ دہلی حکومت میں ٹرانسپورٹ، محصولیات اور ماحولیات کے وزیر کے عہدے پر فائز کیلاش گہلوت اس مرتبہ پھر کجریوال کی نئی کابینہ میں وزیر بنائے گئے ہیں۔ ایل ایل ایم تعلیم یافتہ کیلاش گہلوت نے نجف گڑھ سیٹ سے بی جے پی کے اجیت سنگھ کھرکھری کو 6231 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

گزشتہ کابینہ میں وزیر ماحولیات رہتے ہوئے کیلاش گہلوت نے دہلی کی آلودہ ہوا کے حوالے سے تمام اہم اور ضروری اقدامات اٹھائے تھے، جس کے نتیجے میں آلودگی میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ دہلی کی ہوا کو ہر موسم میں سانس لینے کے قابل بنایا۔ کیلاش گہلوت نے وزیر ٹرانسپورٹ رہتے ہوئے خواتین کو بسوں میں مفت سفر کرنے کیلئے اسکیم پر عمل درآمد کرایا۔ محکمہ سے امیدی کی جا رہی ہے کہ دہلی کی بسوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور دہلی میں لاسٹ مائل کنیکٹی وٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

راجندر پال گوتم: سیماپوری سے عام آدمی پارٹی (اےاے پی) کے رکن اسمبلی راجندر پال گوتم پارٹی میں دلت طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسٹر گوتم نے اتوار کو وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔ انہوں نے لوک جن شکتی پارٹی کے سنت لال کو 56108 ووٹوں سے شکست دی ہے۔ وہ اے اے پی کی پچھلی حکومت میں سماجی انصاف اور امپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ایس سی /ایس ٹی محکمہ، رجسٹرار آف کو-آپریٹو سوسائیٹیز کے وزیر تھے۔ انہوں نے گذشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کرم ویر کو 48821 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

ان کی پیدائش 26 اپریل 1968 کو شمال مشرقی ضلع کے گھونڈا میں ہوا تھا۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی (ڈی یو)سے وکالت میں بیچلر کی ڈگری لی ہے اور پیشے سے وکیل ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close