تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اروند کجریوال نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا چارج سنبھالا

عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے پیر کو لگاتار تیسری بار دہلی کے وزیر اعلی کے عہدہ کا چارج سنبھال لیا۔ اس کے علاوہ مسٹر کجریوال کے کابینہ رکن منیش سسودیا، ستیندر جین، راجندر پال گوتم اور عمران حسین نے بھی یہاں دہلی سکریٹریٹ میں اپنے اپنے محکموں کا عہدہ سنبھال لیا۔ دہلی حکومت کے دیگر وزیر کیلاش گهلوت اور گوپال رائے بھی آج اپنا اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔ یہ تیسری بار ہے جب مسٹر کجریوال نے اپنی کابینہ میں کسی خاتون رکن کو شامل نہیں کیا ہے۔

خیال رہے ’ آپ‘ کنوینر مسٹر اروند کجریوال کو اتوار کے روز لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے دارالحکومت کے تاریخی رام لیلا میدان میں وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف دلایا تھا۔ مسٹر کجریوال کی قیادت میں آپ نے مسلسل دوسری بار دہلی اسمبلی انتخابات میں زبردست اکثریت حاصل کی تھی۔ 11 فروری کو آئے نتائج میں ’آپ‘ کو 70 میں سے 62 اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو آٹھ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی، جبکہ کانگریس کی جھولی 2015 کی طرح اس بار بھی خالی رہ گئی تھی۔

یاد رہے کہ احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں کے ذریعہ لوگوں کے فعال شخصیت کی پہچان بنانے والے عام آدمی پارٹی (آپ)کے کنوینر اروند کیجریوال نے سال 2012 کے نومبر ماہ سے اپنی سیاسی اننگ کی شروعات کی تھی اور پھر سے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور اتوار (آج) کو تیسری بار دہلی کے وزیراعلی کے عہدے کا حلف لیا۔

مسٹر کیجریوال انڈین ریوینیوسروس کی نوکری چھوڑکر سماجی کارکن بنے اور سرکاری کام کاج میں شفافیت لانے کےلئے کافی محنت کی۔ ’رائٹ ٹو انفورمیشن-حقوق اطلاعات ‘ قانون بنانے کےلئے انہوں نے سخت محنت کی۔ حکومت کو عوام کےحقوق کےلئے جواب دہ بنانے کےلئے بہت کوشاں رہے۔ ان کی کوششوں اور جدوجہد کےلئے انہیں سال 2006 میں میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مسٹر کیجریوال نے سال 2011 میں بدعنوانی کےخلاف چھیڑے گئے معروف سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس تحریک کا ایک اہم چہرہ بن کر ابھرے۔ انہوں نے رام لیلا میدان اور جنترمنتر پر انا ہزارے کے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے جیسے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ دو اکتوبر 2012 کو انہوں نے اپنی ایک سیاسی پارٹی بنائی جس کا نام عام آدمی پارٹی رکھا۔

16 اگست 1968کو ہریانہ کے سیونی ضلع میں پیدا ہوئے مسٹر کیجریوال نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آٖف ٹیکنولوجی کھڑگپور سے میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ دنوں تک انجینئر کے طور پر کام کرنے کے بعد انہوں نے استعفی دے کر انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کی تیاری شروع کردی اور وہ انڈین ریوینیو سروس کے لئے منتخب ہوگئے۔ وہ انکم ٹیکس محکمے میں جوائنٹ کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے بعد وہ نوکری سے استعفی دے کر سماجی کام میں جٹ گئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close