تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اروند کجریوال نے سونپے وزراء کو وزارتوں کے قلمدان

اروند کجریوال کے پاس اس مرتبہ بھی نہیں کوئی وزارت، جل بورڈ بھی کیا ستیندر جین کے حوالے

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
راجدھانی دہلی میں تیسری مرتبہ عام آدمی پارٹی نے حکومت بنالی ہے۔ وزیر اعلی اروند کجریوال نے اپنی کابینہ کے وزراء کو وزارتوں کے قلمدان سوبپ دبئے ہیں، لیکن دہلی کے مسلسل تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے والے اروند کجریوال نے سابقہ کی طرح اس مرتبہ اپنے پاس کوئی وزارت نہیں رکھی ہے، تمام وزارتوں کے قلمدان اپنے دیگر چھ کابینہ وزراء منیش سسودیا، گوپال رائے، ستیندر جین، کیلاش گہلوت، عمران حسین اور راجندر پال گوتم کو سونپ دبئے ہیں۔ وزیر اعلی اروند کجریوال پہلے کی طرح وزارتوں کے کام کاج پر اپنی نگاہ رکھیں گے۔

دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے گزشتہ روز دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں دہلی کے لاکھوں عوام کو گواہ بناتے ہوئے کھلے اسٹیج سے اپنے کابینہ وزراء منیش سسودیا، ستیندر جین، گوپال رائے، کیلاش گہلوت، عمران حسین اور راجندر پال گوتم کے ساتھ حلف لیا، دہلی کے ایل جی انل بیجل نے عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ حلف برادری کے بعد آج صبح وزیراعلی سمیت دیگر سبھی وزرا نے دہلی سیکریٹریٹ پہنچ کر اپنے کام کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ لیکن گزشتہ کی طرح اس مرتبہ بھی وزیراعلی اروند کجریوال نے اپنے پاس کوئی وزارت نہیں رکھی ہے اور نہ ہی کسی خاتون کو وزارت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کجریول نے تمام وزارتوں کے قلمدان اپنے کابینہ وزراء میں تقسیم کر دبئے ہیں۔ یہاں تک کہ دہلی جل بورڈ کی ذمہ داری بھی کابینہ وزیر ستیندر جین کے حوالے کر دی ہے۔

وزیر اعلی کجریوال نے کچھ وزرا کے محکموں میں معمولی تبدیلی کی ہے۔ جس میں سینئر کابینہ وزیر گو پال رائے کو وزارت ماحولیات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ یہ وزارت پہلے کیلاش گہلوت کے پاس تھی جو دہلی میں پالیوشن کے اضافے پر ان کے حوالے کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس وزارت کا قلمدان کابینہ وزیر عمران حسین کے پاس تھا۔ عمران حسین کو وزارت خوراک ورسد کی اہم ذمہ داری دیتے ہوئے قلمدان سونپا گیا ہے۔ جبکہ کیلاش گہلوت کے پاس ٹرانسپورٹ اور محصولیات جیسی وزارت ہیں۔ نائب وزیراعلی سسودیا کے پاس وزارت خزانہ اور وزارت تعلیم جیسی اہم وزارتیں رہیں گی۔ خواتین اور بچوں کی فلاح وبہبود کی وزارت ان سے لے کر راجندر پال گوتم کو دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی وزرا کے پاس پرانی سبھی وزارتوں کی ذمہ داری برقرار رہے گی۔

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی بھاری اکثریتی جیت کو اگر دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہلی تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی چیزوں کے اہم ایشو پر عام آدمی پارٹی نے الیکشن جیتا ہے۔ دہلی میں بہتر تعلیم فراہم کرنے کے ایشو پر الیکشن جیتنے والی عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت کے وزیر تعلیم منیش سسودیا کو تعلیم میں مزید ترقی اور سہولت کی نیت سے ہی ایک مرتبہ پھر یہ اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔

اسمبلی الیکشن میں بھاری اکثریت کے ساتھ جیت درج کرانے والی عام آدمی پارٹی کے تین اہم چہرے آ تشی، راگھو چڈّھا اور دلیپ پاندے کے جیتنے پر یہ مانا جا رہا تھا کہ دہلی حکومت کی تشکیل نو میں وزراء میں تبدیلی کی جائے گی۔ لیکن اس مرتبہ دہلی حکومت میں کسی خاتون کو وزارت نہیں دی گئی ہے۔ یہ بھی قیاس لگائے جا رہے تھے کہ تعلیم کے اہم ایشو پر الیکشن جیتنے والی عام آدمی پارٹی کی سابقہ دہلی حکومت میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے والی آتشی کو کوئی وزارت دی جا سکتی ہے۔ لیکن وزیر اعلی اروند کجریوال اپنی کابینہ کے سبھی پرانے وزراء پر بھروسہ جتاتے ہوئے دہلی کی حکومت چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور دلیپ پانڈے، راگھو چڈّھا اور آتشی کوئی وزارت نہیں دی۔

اس مرتبہ جو معمولی تبدیلی کے ساتھ جو وزارتیں تقسیم کی گئی ہیں۔ ان میں وزیر اعلی اروند کجریوال نے کوئی وزارت نہیں لی ہے۔ منیش سسودیا نائب وزیر اعلی کی اہم ذمہ داری کے ساتھ تعلیم، خزانہ، پلاننگ، لینڈ اینڈ بلڈنگ، وجیلینس، سروسیسز، سیاحت، فن، ثقافت والسنہ کی ذمہ داری کے ساتھ وہ سبھی وزارتوں کے قلمدان جو کسی وزیر کو نہیں دبئے گئے ہیں وہ بھی ان کے پاس رہیں۔ گو پال رائے کو وزارت ملازمت، ترقی، لیبر اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن، ماحولیات اور جنگلات اور وائلڈ لائف کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

ستیندر جین کو صحت، پی ڈبلیو ڈی، بجلی، گھر، شہری ترقی اور آبپاشی، فلڈ کنٹرول اور اب پانی کی وزارت کا بھی قلمدان سونپا گیا ہے۔ عمران حسین کو وزارت خوراک ورسد اور الیکشن کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ راجندر پال گوتم کو گرودوارہ الیکشن، ایس سی، ایس ٹی سماجی ترقی، کو آپریٹو، فلاح بہبود خواتین اور اطفال کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ کیلاش گہلوت کو قانون، انصاف اور قانون سازی کے امور، ٹرانسپورٹ، انتظامی اصلاحات، محصولیات، انفارمیشن ایںڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close