اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو وکالت کرنے سے نہیں روکا جاسکتا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے منگل کو یہ التزام کیا کہ اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو وکالت کا پیشہ کرنےسے نہیں روکا جاسکتا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا،جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کےلیڈر اور پیشہ سے وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی متعلقہ عرضی خارج کردی۔

عدالت نے کہا کہ بار کونسل آف انڈیا(بی سی آئی)کی دستورالعمل کااصول -49 صرف تنخواہ پانے والے فل ٹائم ملازمین پر نافذ ہوتا ہے۔اس کے دائرے میں اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی نہیں آتے ۔ مسٹر اپادھیائے نے اپنی عرضی میں مطالبہ کیاتھا کہ بی سی آئی دستورالعمل کے سیکشن چھ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کےاپنے عہدے پر رہنے کے دوران وکالت کرنے پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔انہوں نے اسی ضمن میں دستوالعمل کے اصول -49 کو غیر آئینی قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ مسٹر اپادھیائے کی جانب سے سینئر وکیل شیکھر نفاڈے نے دلیل دی تھی کی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو بھی تنخواہ ملتی ہے اور انہیں پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس پر بی سی آئی نے بھی اراکین پارلیمنٹ اور ارکین اسمبلی کو نوٹس جاری کئےتھے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے ایٹرنی جنرل کے کے وینوگوپال نےحالانکہ اس عرضی کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی عوامی خدمات ادا کرتے ہیں۔وہ منتخب نمائندے ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں انہیں حکومت کا فل ٹائم ملازم نہیں مانا جاسکتا اور اسی لئے انہیں وکالت کے پیشہ سے بھی نہیں روکا جا سکتا ۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close