اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اجودھیا معاملہ: سپریم کورٹ میں 29 جنوری کو ہونے والی سماعت پھر ہوئی ملتوی

ایودھیا کی بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ معاملے میں اب ایک اور نیا موڑ آ گیا ہے. اس معاملے پر 5 ججوں کی بنائی گئی بینچ 29 جنوری کو جو سماعت کرنے والی تھی، وہ ایک بار پھر سے ٹل گئی ہے. خبروں کے مطابق پانچ ججوں کی بینچ میں شامل ایس اے بوبڑے 29 جنوری کو سپریم کورٹ میں موجود نہیں رہیں گے. جس وجہ سے سماعت کی تاریخ کو ایک بار پھر بڑھا دیا گیا ہے. فی الحال نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے.

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے کولے کر پانچ ججوں کی بینچ کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کی سماعت 10جنوری کو ہونےوالی تھی. لیکن سماعت سے ٹھیک پہلے ہی جسٹس يويو للت نے ججوں کی اس بینچ سے اپنا نام واپس لے لیا. جس کے بعد اس کی سماعت کو ٹالنا پڑا. پانچ ججوں کی اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس یس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چنرچوڑ، جسٹس يويو للت، جسٹس این وی رمانا شامل تھے. جس کے بعد اس کی سماعت 29 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی گئی تھی.

اس سے پہلے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے ججوں کی بنچ میں دو نئے نام شامل تھے. سي جےآئی کی جانب سے جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبد النذیر کو بینچ میں شامل کیا گیا. جس کے بعد تمام لوگوں کو 29 جنوری کا انتظار تھا. لیکن ایک بار پھر سے تاریخ ٹل گئی ہے اور فی الحال نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close