اترپردیشتازہ ترین خبریں

اجودھیا فیصلے کے پیش نظر 34 اضلاع میں الرٹ جاری

سوشل میڈیا پر پولیس کی گہری نظر، افواہوں سے بچنے کیلئے عوامی رابطے کی تیاری

بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت کے معاملے سپریم کورٹ کی جانب سے آنے والے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر ریاست میں سیکورٹی سخت کردگئی ہے۔اس کے ساتھ ہی نظم ونسق کا برقرار رکھنے کے لئے ریاستی حکومت کے مطالبے پر سنٹرل پارلیمنٹری فورسز کی40 کمپنیاں یو پی کے لئے روانہ کردی گئی ہیں۔

ریاست میں نظم ونسق میں کسی بھی چوک سے بچنے کے لئے انتظامیہ نے پہلے سے ہی افسران کے تمام چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور ریاست کے تمام 75 اضلاع میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔تمام سیاسی پارٹیاں اور مذہبی تنظیمیوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے بعد سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور کسی بھی صورت مشتعل نہ ہوں۔ تمام سیاسی جماعتیوں اور مذہبی تنظیموں نے اس بات کا تیقن دیا ہے کہ وہ عدالت عظمی کی جانب سے آنے والے ہر فیصلے کو قبول کریں گے۔ خواہ ہو بابری مسجد کے حق میں ہو یا رام مندر کے۔ ان تمام کے درمیان سنٹر نے پارلیمانٹری فورسز کی 40 کمپنیاں ریاست میں بھیج دی ہیں۔

وزارت داخلہ نے پیر کو اترپردیش کے لئے پارلیمنٹری فورسز کی 40 کمپنیوں کی اجازت دی ہے۔جو کہ ریاست میں 18 نومبر تک قیام کریں گی۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹری فورسز کی 15 کمپنیاں فورا یو پی میں بھیج دیا گیا ہے جن میں تین۔تین کمپنیاں بی ایس ایف،آر اے ایف،سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی کی شامل ہیں۔ جبکہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی دیگر 15 ٹکڑیاں یو پی 11 نومبر کو پہنچیں گی اور 18 نومبر تک قیام کریں گی۔

اس کے علاوہ مرکز نے ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف) کی 10 کمپنیوں کو 18 نومبر تک کے لئے یو پی بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ مجموعی طور سے 40 کمپنیوں میں آر اے ایف کی 16، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی اور بی ایس ایف کی 6،6 کمپنیاں 18 نومبر تک یوپی میں تعینات کی جائیں گی۔ ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق ان پارلیمنٹری فورسز کو 12 نہایت ہی حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔ وارانسی اور اجودھیا کے علاوہ اجودھیا فیصلے کے پیش نظر امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے پارلیمنٹری فورسز کو کانپور،علی گڑھ، لکھنؤ،اعظم گڑھ اور دیگر مقامات پر تعیینات کیا جائے گا۔ مقامی انتظامیہ کو سیکورٹی اہلکار کی تعیناتی کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اجودھیا کے ڈی ایم انج کمار جھا کے حوالے سے موصول اطلاع کے مطابق ضلع میں سخت سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ وہیں ایس ایس پی آشیش تیواری نے کہاکہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ حملے، فرقہ وارانہ فساد اور دیگر کسی بھی قسم کے ناگہانی حادثے سے نپٹنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے چار سطحی منصوبے کو ترتیب دیا ہے۔ پولیس نے ریاست کے اضلاع میں 1600 مقامات پر 16000 والنٹرئرس کو تعیانت کیا ہے جو کہ عوام سے پرامن رہنے اور حوصلہ رکھنے کی اپیل کریں گے۔ ساتھ ہی اتنی ہی تعداد میں ڈیجیٹل والنٹیرئس بھی سوشل میڈیا پر اپنی اچکتی نگاہ رکھیں گے۔انتظامیہ نے والنٹرئس کے متعدد وہاٹس ایپ گروپ بھی بنائے ہیں تاکہ وہ اپنے پیغامات کو موصول کرسکیں۔

انتظامیہ نے سرخ، پیلے، ہرے اور نیلے نام سے سیکورٹی کے چار زمرے بنائے ہیں۔ جس کے تحت سرخ اور پیلے زمرے والے حلقوں میں سنٹرل پیرا ملٹری فورسز کو تعینات کیا جائے گا۔جبکہ ہرے اور نیلے زمروں والے حلقوں کو سول پولیس تعینات رہے گی۔ سیکورٹی فورسز کے قیام کے لئے 700 سرکاری اسکول، 50 یو پی بورڈ سے منسلک اسکول اور 25 سی بی ایس سی اسکولوں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔ وہیں دوسری جانب کانگریس نے اپنے تمام لیڈروں کو اجودھیا فیصلے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے بچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اترپردیش کانگریس مشاورتی کمیٹی کے ساتھ میٹنگ میں جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تمام لیڈروں کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ عدالت کے فیصلے پر کسی بھی قسم کے تبصرہ کرنے سے پہلے پارٹی کے موقف کا انتظار کریں۔

اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے تمام متولیوں کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کسی بھی قسم کے پروگرام یا احتجاج کے لئے وقف پراپرٹی کواستعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی ہدایت دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ 17 نومبر سے قبل ہی رام جنم بھومی۔بابری مسجد متنازع اراضی ملکیت کے معاملے میں اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close