اترپردیشتازہ ترین خبریں

اجتماعی آبروریزی معاملہ: پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان

راجستھان میں ضلع الور کے بڑودہ میو تھانہ علاقے میں نا بالغہ سے اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں پولیس کے کردار پر پھر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں اصل سازشی خاتون کو پانچ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد گزشتہ دیر رات چھوڑ دیا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں متاثرہ نے اپنے بیان میں مذکورہ خاتون کو اصل ملزم بتایا تھا۔ اس کے باوجود پولیس اسے گرفتار نہیں کر رہی ہے۔ اس سے ایک مرتبہ پھر الور پولیس کا کردار شک کے گھیرے میں آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ملزمہ سے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ وشنارام وشنوي اور لشمی گڑھ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اوم پرکاش نے پوچھ گچھ کی ہے۔ ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق پولیس ابھی تک ملزم خاتون کو اس معاملے کے ابتدائی جانچ میں قصوروار نہیں تسلیم کر رہی ہے، جبکہ اسی خاتون کے تعاون سے اس واردات کو انجام دیا گیا تھا، جیسا متاثرہ کا الزام ہے۔

اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں پولیس نے ملزم جیکم اور راہل ولد علیٰ دین کو گرفتار کیا ہے جبکہ تیسرے ملزم راہل ولد لال محمد کو فحش تصویر وائرل کرنے کے معاملے میں آئی ٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں دیگر ملزم عمران کی پولیس تلاش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے الور کے ہی تھانا غازی اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں الور پولیس کی لاپرواہی سامنے آئی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close