تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اب گھر بیٹھے والدین اپنے بچوں کو دیکھ سکتے ہیں پڑھتے ہوئے

دہلی کے وزیراعلی اور وزیرتعلیم نے سرکاری اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا کیا آغاز

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اب گھر بیٹھے والدین اپنے بچوں کو کلاس روم پڑھتے ہوئے اپنے موبائل فون پر دیکھ سکتے ہیں۔ دہلی حکومت نے اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے پروجیکٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ دہلی کے اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا نے کے پروجیکٹ کے چلتے دہلی کے لاجپت نگر میں واقع شہید ہیمو کلانی سرودیہ بال ودیالیہ اسکول میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا نے کی شروعات کی گئی۔ جس کا افتتاح آج دہلی کے وزیر اروند کجریوال اور نائب وزیر و وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کیا۔

اس موقع پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہاکہ آج کا دن تعلیم کے میدان میں نہ صرف دہلی اور ملک کیلئے بلکہ پوری دنیا کے لئے تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ پوری دنیا میں کئی ایسے ملک اور ان میں اسکول ہوں گے، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے تو لگے ہوں گے لیکن شاید پوری دنیا میں یہ پہلی مثال ہے کہ جب ہر کلاس کی فیڈ بچوں کے پیرنٹس کے موبائل فون پر دی جا رہی ہے۔ ایسا پوری دنیا کے اندر آج تک کبھی نہیں ہوا۔ پروگرام کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی اروند کجریوا ل نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ دہلی کے اسکولوں میں سی سی ٹی وی لگنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ یہ پہلا اسکول ہے جہاں کے کلاس، کوریڈور، کھیل گراؤنڈ اور پورے اسکول میں 210 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ یہ دنیا کا پہلا اسکول ہے جہاں والدین اپنے بچوں کے کلاس کا فیڈ اپنے فون پر دیکھ سکتے ہیں۔

وہیں پروگرام کے دوران اپنے خطاب میں کجریوال نے کہاگزشتہ پانچ سال کے اندر دہلی حکومت نے کئی انقلابی کام کئے ہیں جن کی بحث پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ ہم نے محلہ کلینک بنائے، اسکولوں میں ہیپی نیس کیریکولم شروع کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اسی لنک میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے اور ان کی فیڈ پیرنٹس کو دینے کا کام دنیا میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ اس میں وقت تو لگا لیکن تقریبا گزشتہ تین سال سے ہمیں حکومت کے اندر بیٹھ کر اس کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑی۔ اپوزیشن نے اس کی خوب مخالفت کی، مختلف قسم کے خوف و خدشات پیدا کئے، مختلف قسم سے دشواریاں پیدا کی گئیں، یہاں تک کہ کورٹ کے اندر بھی کیس کیا گیا، لیکن ہمیں لگتا تھا کہ ہم لوگ جو کر رہے ہیں وہ ایک اچھا کام ہے اور ہمیں یقین تھا کہ ہم جو کر رہے ہیں اس سے ہمارے بچوں کو بہترین تحفظ ملے گا، اس سے تعلیم کا معیار سدھرے گا، بچوں کا مستقبل سدھرے گا اور جو پیرنٹس ہم پر اتنا یقین کرکے اپنے بچوں کو ہمارے اسکولوں میں بھیجتے ہیں ان پیرنٹس کے ذہن میں بھی یہ یقین رہے گا کہ ان کا بچہ محفوظ ہے۔ اسی اعتماد کو لے کر ہم لوگ ڈٹے رہے۔ وزیر اعلی نے کہاکہ ہم نے اس پروجیکٹ کو درمیان میں نہیں چھوڑا اور آج مجھے انتہائی خوشی ہے کہ یہ پروجیکٹ کامیاب ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ پہلا اسکول ہے جس کے اندر یہ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔ بہت جلد دہلی کے تمام اسکولوں کے اندر یہ چالو ہو جائے گا۔

دہلی کے وزیر اعلی نے یہ بھی کہا ابھی ابھی میں صفدر جنگ اسپتال سے آ رہا ہوں، ایک چھ سال کی معصوم بچی کے ساتھ ایک حیوان نے دوارکا میں دو دن پہلے عصمت دری کی۔ آج ہمارے معاشرے کے اندر کچھ ایسے عناصر ہیں جن کے دماغ کا ڈر ختم ہو چکا ہے، انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ جو مرضی کریں ان کا کچھ نہیں ہو گا۔ اس چھوٹی سی بچی کے ساتھ اس نے بہت ہی گھٹیا حرکت کی لیکن وہاں پر ایک سی سی ٹی وی کیمرے تھا، اس سی سی ٹی وی کیمرے میں سب کچھ قید ہو گیا اور وہ آدمی چند گھنٹوں کے اندر پکڑا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر اس کو یہ پتہ ہوتا کہ یہاں سی سی ٹی وی کیمرے ہیں تو شاید وہ ایسا نہیں کرتا۔ سی سی ٹی وی کیمرے واردات ہونے کے بعد ہمیں اہم سرغ دیتا ہے، مجرم تک پہنچنے کے لئے اور مجرم کو سخت سے سخت سزا دلانے میں اس سے مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمرے لگنے سے ایک ایساماحول پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی غلط کام کرنے سے ڈرتا ہے کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے غلط کام کیا تو میں پکڑا جاؤں گا۔

وزیر اعلی نے کہاکہ آج کا ماحول اتنا خراب ہے لیکن اب ہر ماں باپ یہ سی سی ٹی وی کیمرے لگ جانے کے بعد سارا دن دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا بچہ محفوظ ہے اور کلاس کے اندر موجود ہے۔ نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہاکہ اس کا ویژن اور اس کا حکم ہمیں وزیر اعلی کی ہی طرف سے ملا۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ تقریبا دو سال پہلے ایک پرائیویٹ اسکول میں ایک بچے کی موت ہو گئی تھیَ اب وہ موت تھی یا قتل تھا، ابھی تک پولیس کی تحقیقات ہی کر رہی ہے۔ اس واقعہ سے پریشان وزیر اعلی نے کہا کہ ہمیں اسکول میں چپے چپے پر سی سی ٹی وی لگوانے چاہئیں۔ وزیر اعلی کی ہدایات کے بعد ہم نے اس سمت میں کام شروع کر دیا اور ہمیں خوشی ہے کہ آج ہم کامیاب ہوئے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close