اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اب کسی مخصوص فرد کو بھی ’دہشت گرد‘ قرار دیا جا سکے گا

دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموں کے ساتھ ہی ایسی سرگرمیوں میں ملوث مخصوص افراد کو بھی اب دہشت گردقرار دینے اور اس پر پابندی لگانے سے متعلق بل اپوزیشن کی مخالفت اور واک آوٹ کے درمیان آج لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے بل پر دو روز تک ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سیاسی غلط استعمال کے خدشات کو ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مخصوص فرد کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کے دائرے میں لانا ضروری تھا اس لئے حکومت کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ترمیمی بل 2019لانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ی صرف بندوق سے پیدا نہیں ہوتی۔ جو اس کی تبلیغ کرتا ہے وہ بھی دہشت گرد ہے۔ اس ترمیم کے ذریعہ دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے‘ دہشت گردوں کی تیاری میں مدد کرنے والے‘ انہیں اقتصادی تعاون دینے والے اور ادبی اور نظریاتی توسیع و اشاعت کے ذریعہ دہشت گردی کے اصولوں کی تشہیر کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے کا التزام کیا گیا ہے۔

مسٹر شاہ نے یقین دلایا کہ ”اس میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا گیا ہے کہ اس کاغلط استعمال نہ ہو… میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ قانون صرف اور صر ف دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ایک کے بعد ایک ادارہ تبدیل کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔“ اس سے قبل کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کئے جانے پر کانگریس اور ترنمول کانگریس کے اراکین نے ایوان سے واک آوٹ کیا جب کہ مسٹر شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ”ووٹ بینک ناراض نہ ہو اس کے خوف سے“ ایوان سے باہر جارہے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی نے بل پرغور کرنے کی مخالفت کی اور ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ ووٹنگ سے پہلے بہوجن سماج پارٹی کے رکن بھی ایوان سے باہر چلے گئے۔ووٹنگ پرچیوں سے ووٹنگ میں آٹھ کے مقابلے 287 ووٹوں سے بل پر غور کرنے کی اجازت مل گئی۔

اس کے بعد اپوزیشن کے تمام ترامیم بھی ایوان سے مسترد ہوگئے۔ مسٹر اویسی کے ذریعہ پیش ترامیم پر تین مرتبہ ووٹنگ ہوئی۔ حالانکہ اسپیکر نے ان تینوں مواقع پر پرچیوں کے بجائے ترامیم کی حمایت کرنے والوں سے باری باری سے ان کی جگہوں پر کھڑے ہونے کے لئے کہہ کر ووٹنگ کرائی۔ پہلی دو مرتبہ میں ترامیم کے حق میں آٹھ اور مخالفت میں 288ووٹ آئے جب کہ تیسری مرتبہ ترامیم کے حق میں سات اور مخالفت میں 288 ووٹ پڑے۔

اسپیکر اوم برلا نے کھڑے کرواکر اراکین کی گنتی کرنے کے لئے لوک سبھا کے ضابطہ کار367 کا حوالہ دیا۔ جس کے تحت اسپیکر کو اگر یہ لگتا ہے کہ ووٹنگ کرانے کی مانگ ”غیر ضروری“ طور پر کی جارہی ہے تو وہ طرح سے ووٹنگ کروا سکتا ہے۔

اس بل کے قانون بن جانے کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ ایجنسی کے ذریعہ کسی دہشت گرد یا ادارہ کی جائیداد ضبط یا قرق کرسکے۔ اس سے مرکزی حکومت کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کرسکے۔ ابھی صرف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کے نام ہی ممنوعہ فہرست میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ بل کے ذریعہ این آئی اے کے انسپکٹر درجہ کے افسرکو بھی تفتیش کا اختیار حاصل ہوگا۔

مسٹر شاہ نے اس قانون کو سخت بنانے کا سہرا سابقہ یو پی اے حکومتوں کو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے سخت سے سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا”1967 میں جب یہ قانون بنا تھا تب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی حکومت تھی۔ سال 2004 میں قانون میں پہلی ترمیم کی گئی۔ سال 2008میں دوسری اور 2013میں تیسری ترمیم کی گئی۔ تینوں مواقع پر یو پی اے حکومت تھی۔ اس قانون کو سخت بنانے کا پورا سہرا یو پی اے حکومتوں کو جاتا ہے۔ اس وقت بھی آپ نے صحیح کیا تھا اور آج ہم جو کرنے جا رہے ہیں وہ بھی صحیح کرنے جا رہے ہیں۔“

انہوں نے بل میں ترامیم کے ذریعہ وفاقی ڈھانچہ ختم کرنے کے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی ڈھانچہ ختم ہوا ہے تو یو پی اے حکومتوں نے ہی اسے ختم کیا ہے اور وہ ما نتے ہیں کہ یو پی اے حکومتوں نے ٹھیک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سلامتی کے لئے کام کرنے والی ایجنسیوں کو بے ضرر قانون نہیں دینا چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close