تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’آپ‘ رکن اسمبلی آدرش شاستری کانگریس میں شامل

آنجہانی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور اس بار اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیئے جانے سے ناراض عام آدمی پارٹی (آپ) ممبر اسمبلی آدرش شاستری ہفتہ کے روز کانگریس میں شامل ہو گئے۔

مسٹر شاستری دہلی اسمبلی کے 2015 کے انتخابات میں دواركا سیٹ سے کامیاب ہوئے تھے۔ پارٹی نے انہیں اس بار ٹکٹ نہیں دیا۔ ان کی جگہ عام آدمی پارٹی نے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہوئے کانگریس لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ مہابل مشرا کے بیٹے ونے کمار مشرا کو ٹکٹ دیا ہے۔ مسٹر مشرا نے جمعہ کو آپ امیدوار کے طور پر دوارکا سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔

دہلی ریاستی کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مسٹر شاستری آج پارٹی کے دہلی امور کے انچارج کانگریس جنرل سکریٹری پی سی چاکو اور ریاستی یونٹ کے صدر سبھاش چوپڑا کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوئے۔ مسٹر چاکو اور مسٹر چوپڑا نے مسٹر شاستری کو گلے لگاکر کانگریس میں شامل کیا۔ مسٹر چاکو اور مسٹر چوپڑا نے مسٹر شاستری کے کانگریس میں شامل ہونے کو گھر واپسی بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے خاندان کا ایک بچہ جو ہم سے الگ ہو گیا تھا وہ خاندان میں واپس آ گیا ہے۔ ہم پارٹی میں دل سے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں‘‘۔ دونوں نے کہا کہ مسٹر شاستری کی صاف اور ایماندار شبیہ سے کانگریس کو دہلی میں فائدہ حاصل ہو گا۔

مسٹر چوپڑا نے کہاکہ مسٹر شاستری باوقار اونچے عہدے کی نوکری چھوڑ کر عوامی خدمت کے لئے سیاست میں آئے اور آپ پارٹی میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر شاستری، مسٹر کیجریوال کے لوک پال کے لئے کئے گئے بڑے بڑے وعدے کے جھانسے میں آ گئے اور وزیر اعلی بننے کے بعد آپ پارٹی لوک پال کو بھول گئی۔ مسٹر شاستری نے اس موقع پر کہا کہ 18۔19 سال تک اعلی عہدے پر کام کرنے کے بعد وہ مسٹر کیجریوال کی بدعنوانی سے جنگ اور ایمانداری سے سیاست کرنے کی بڑی بڑی باتوں میں آکر عوام کی خدمت کرنے کے لئے سیاست میں آئے، لیکن میرے خواب چکنا چور ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی، ممبران اسمبلی کی ایک بھی نہیں سنتے تھے۔ مسٹر شاستری نے کہا ان کے دادا نے ایمانداری اور عزت نفس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور انہوں نے بھی وہی راستہ اخیتار کیا۔ ممبر اسمبلی نے کہا کہ دہلی میں جب راجیہ سبھا کے تین ارکان پارلیمنٹ کے لئے پارٹی ٹکٹ طے کر رہی تھی، اس وقت جب اجلاس میں دو کے نام سامنے آئے تو سب ممبر اسمبلی حیران رہ گئے۔ مسٹر شاستری نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر لڑنے والے مہابل مشرا کو تقریباً 67 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعلی پر الزام لگایا کہ بھاری رقم لیکر دہلی اسمبلی کا ٹکٹ فروخت کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ آپ نے دوارکا سے کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ مہابل مشرا کے بیٹے ونئے مشرا کو امیدوار بنایا ہے۔ ونئے نے حال ہی میں آپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ مسٹر شاستری نے مسٹر کیجریوال پر ’آمر‘ کا اور ’آپ‘ کے ممبران اسمبلی پر بدزبانی کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ وزیر اعلی کو جمہوری اقدار پر قطعی اعتماد نہیں ہے۔ اس نے ٹکٹ بیچنے کا کاروبار کھولا ہے۔

آپ کے ایم ایل اے نے کہا، ’’پچھلے اسمبلی انتخابات میں جسے میں نے 70 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی، اس کے بیٹے کو 10 کروڑ روپے میں ٹکٹ فروخت کیا گیا تھا۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ٹکٹ نہ ملنے پر یہ الزام لگایا جارہا ہے، تو مسٹر شاستری کہا، ’’میں ٹکٹ نہ ملنے پر الزام نہیں عائد کررہا ہوں، اگر پارٹی میری جگہ پر آپ کے کارکن کو امیدوار بناتی تو کوئی دکھ کی بات نہیں ہے، لیکن ٹکٹ فروخت کرنے سے بڑے صدمہ میں ہوں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کا عوام کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ صرف ووٹ بینک کی سیاست کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹرار (این سی آر) پر ایک لفظ بھی نہیں بولا اور خاموشی اختیار کی۔ وہ جامعہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلباء کے ساتھ ہونے والے واقعے پر بھی خاموش رہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close