تازہ ترین خبریںدلی نامہ

آزادی اور انقلابی نعروں سے گونج رہی ہے دہلی

شاہین باغ، جامعہ ملیہ پر 35ویں دن بھی ستیہ گرہ جاری، خوریجی اور سیلم پور میں بھی خواتین نے شروع کیا ستیہ گرہ ٭دھرنے ختم کرانے کی پولیس کی کوششیں ناکام

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
آئین مخالف سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف ملک بھر سمیت راجدھانی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنے جاری ہیں۔ سردی، بارش کے پرواہ کئے بغیر آئین کے تحفظ کیلئے شاہین باغ اور جامعہ ملیہ پر گزشتہ 35روز سے رات و دن خواتین اور طلبا و طلبات کا دھرنا مظاہرہ جاری ہے۔ آزادی اور انقلاب کے نعروں سے شاہین باغ اور جامعہ ملیہ کا چپّا چپّا گونج رہا ہے۔

شاہین باغ میں جاری اس ستیہ گرہ میں ہر عمر کی خواتین، جن میں عمر رسیدہ معمر خواتین اور دودھ پیتے بچے کی مائیں بھی شامل ہیں، رات و دن دھرنے پر بیٹھی ہیں۔ جن کا مقصد آئین کا تحفظ اور مطالبہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کو واپس کرانا ہے۔ ان کو نہ تو سردی کی پرواہ پے اور نہ ہی بارش کی فکر ہے۔ نہ تو ان کو حکومت کے ظلم کا ڈر ہے اور نہ ہی پولیس کے تشدد، لاٹھی ڈنڈوں کا خوف ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو گودوں میں لئے، ان کا ہاتھ تھامے مائیں، پردہ نشین خواتین اس دھرنا گاہ پر جمع ہو رہی ہیں۔ یہ دھرنا اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ یہاں نہ صرف مسلم خواتین بلکہ ہر مذہب کے لوگ یہاں اس کالے قانون کی مخالفت میں آئین کے تحفظ کیلئے گھروں سے نکل آئے ہیں۔ ایک الگ ہی جنون شاہین باغ میں خواتین، مرد، طلبا و طالبات، بچے بوڑھوں اور جوانوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

ہاتھوں میں آزادی اور انقلابی نعرے لکھے تختیاں اور سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے نعرے لکھے پلے کارڈ اٹھائے یہ لوگوں کا صرف ایک مقصد ہے کہ کسی طرح آئین میں تبدیلی نہ ہو، اس ملک اور آئین کے تحفظ کے جان تک پرواہ ان کو نہیں ہے۔ 6 دن کو بچی کو گود میں لیکر پہنچی ایک ماں،جن کی وہ بچی اب سوا ماہ کی ہو چکی ہے کا کہنا ہے، ان بچوں کے مستقبل اور آئین کے تحفظ کیلئے ہم یہاں جمے ہیں۔ وہیں دیگر خواتین کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کا آئین اور ملک محفوظ ہو گا تو ہم محفوظ ہو ں گے۔ آئین ہمیں مذہبی آزادی، تحفظ اور حقوق دیتا ہے، جب ملک کا آئین ہی ختم کر دیا جا ئے گا تو یہاں کون محفوظ رہے گا؟۔

ان کا واضح کہنا ہے کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا اور حکومت اس کا باقائدہ اعلان نہیں کر تی تب تک یہ ستیہ گرہ جا ری رہے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت ہم کو یہاں ہٹا نے کی کوشش نہ کرے، ہم نہ جھکیں گے اور نہ ہی ٹوٹیں گے۔

ستیہ گرہ کر رہی ان خواتین اور جامعہ پر طلبہ مظاہرین کی حمایت میں سیاسی، سماجی، سلیبریٹیز تک پہنچ رہے ہیں۔ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین کی حمایت میں بڑے پیمانے پر جلوس کی شکل میں جا معہ سے شاہین باغ تک احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ شاہین باغ میں جا ری احتجاج کو ختم کر نے کی بھی بڑے پیمانے پر حکومت اور پو لیس کی کوشش جا ری ہے، جس کیلئے ایک جانب کا روڈ کھولنے کی بھی پو لیس کی جانب سے پیش کش کی گئی ہے، لیکن پولیس اور مظاہرین کے مابین ہو ئی گفتگو ناکام رہی۔

مظاہرین کا صاف کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ یہ کا لے قانون کو واپس لیں اور این آر سی، این آر پی لاگو نہ کر نے کا اعلان کریں تبھی ہم یہاں سے اٹھیں گے۔شاہین باغ میں جہاں لاکھوں کا مجمع جمع ہے وہیں جامعہ پر بھی بیحد دلچسپ انداز میں طلبا و طا لبات مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کی حمایت میں مختلف یو نیورسٹیوں، کالجوں، میڈیکل کا لجوں اور اسکولوں کے بچے اور عام مرد و خواتین مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہاں جہاں ایک ڈٹیشن کیمپ کا نمونہ بنایا گیا وہیں جا معہ کے موجودہ اور سابق طلبا و طا لبات نے سی اے اے، این آر سی کو ایک ماڈل کی شکل میں پیش کر کے دکھایا ہے۔عفیرہ، ثناء نغمہ، عاظف اور شارف نے بتا یا کہ اس ماڈل کو تیار کر نے میں انہٰں پانچ رو ز لگے ہیں جس میں انہوں نے سی اے اے کے ذریعہ دوسرے ملک کے لوگوں کو داخل کر نے اور این پی آر، این آر سی کے لئے لوگوں کو لائنوں میں لگے اور ڈٹیشن سینٹر میں دکھا یا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے نوٹ بندی کے وقت لوگ لائنوں میں لگے این آر سی کیلئے بھی لائنوں میں لگنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ملک کے آئین کی روح پر حملہ ہے جو اس ملک کو مذہب کی منیاد پر تقسیم کر نے کی ایک سازش ہے۔

وہیں جا معہ اور اے ایم یو، جے این یو کے طلبا کی حمایت اور کا لے قانو ن کے خلاف دہلی یو نیورسٹی کے طلبا و طا لبات پر میدان میں آئے ہیں۔ وہیں شاہین باغ کی طرح خوریجی اور سیلم پور میں خواتین بھی اپنے گھروں سے اس قانون کے خلاف گھروں سے نکل ا ٓئی ہیں اور احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔وہیں دہلی کی شاہی جا مع مسجد پر بھی روز شام کو خواتین اور علاقائی افراد پر امن احتجاج کرتے ہیں۔ ترکمان گیٹ پر خواتین،نو جوان اور ان کی سر پرستی کر تے بزرگ افراد کا لے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close