تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیریوں کے 370 مسائل کے حل کی راہیں ہموار: مختار عباس نقوی

کشمیر میں اب دو جھنڈے نہیں ہوں گے، صرف ایک ’ترنگا‘ لہرائے گا، 70سال کی تاریخی غلطی کو مودی حکومت میں پارلیمنٹ میں 7گھنٹے میں ختم کر دیا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے آج کہاکہ جس کشمیر کو زمین پر جنت کہا جاتا تھا اس دھرتی کے سورگ (جنت)کو دہشت گردوں اورعلیحدگی پسندوں نے آرٹیکل 370 کوحفاظتی کور بنا کر ’آنتک کا نرک‘(دہشت کا جہنم)بنا دیا تھا۔لیکن آرٹیکل 370ختم ہو تے ہی جموں و کشمیر اور لداخ کے 370مسائل کے خاتمے کا را ستہ صاف ہو گیا ہے۔

مرکزی وزیر اقلیت مختار عباس نقوی نے جموں اور کشمیر سے آ رٹیکل 370ہٹا ئے جا نے کو تاریخی فیصلہ بتا تے ہوئے کہاکہ 70سال کی تاریخی غلطی کو مو دی حکومت میں پارلیمنٹ میں 7گھنٹے میں ختم کر دیا گیا، اس فیصلے سے پو را ملک خوش ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک اگست کرا نتی انگریزوں سے ہندوستان آ زاد کرا نے کیلئے ہوئی تھی اور ایک اگست کرا نتی اب جموں اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہو ئی ہے۔پہلے جموں اور کشمیر میں دو جھنڈے تھے اب صرف ایک جھنڈا ’ترنگا‘ لہرا ئے گا۔

مختار عباس نقوی نے کہاکہ پا رلیمنٹ میں بے اثر کیا جانے والا آرٹیکل 370محض ایک عارضی بندوبست تھا۔آئین کے تخلیق کار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور ملک کو انقلاب زندہ باد کا نعرہ دینے والے مولانا حسرت موہانی جیسی عظیم شخصیات نے آرٹیکل 370 کو ملک کی یک جہتی اور سالمیت کے مفاد کے منافی قرار دیا تھا۔اس کو سیاست دانوں نے گذشتہ 70 برسوں سے ایک آئینی مجبوری بنا رکھا تھااور اس کی آڑ میں ریاست کے معصوم اور سادہ لوح لوگوں کا سیاسی استحصال کیا جاتا رہا۔ جموں و کشمیر اور لداخ، ملک کا اٹوٹ حصہ ہونے کے باوجود بھی وہاں کے لوگ آئینی حقوق سے محروم تھے جو ہر شہری کو لازمی طور پر حاصل ہونا چاہئے۔ لیکن وہاں تعلیمی فقدان تھا،روز گار نہیں تھا غربت تھی، حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ نہیں ہوتا تھا،کرپشن تھا جواب ختم ہوگا اور خطہ کے لوگوں کی ترقی ہو گی۔ 370کے خاتمے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں خصوصاً خواتین اور نو جوانوں کی ترقی کا راستہ کھل گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہاکہ وادی کے لوگوں کو 370کا سبز باغ دکھا کر ایک طویل عرصے تک ان کو گمراہ کیاجا تا رہا اور کچھ سیاسی خامدان ان کا سیاسی استحصال کرتے رہے اوران کو تعلیم سے دور کر کے غریبی اور بے روز گاری کے دلدل میں دھکیل دیا گیا۔جبکہ 2004سے 2019تک 2لاکھ 77ہزار کروڑ رو پیہ صرف جموں اور کشمیر کی ترقی کیلئے دئے گئے مگر تما پیسہ بد عنوانی کی بھینٹ چڑھتا رہا اور عوام کو کنگال کر کے یہ سیاسی خاندان مالدار ہو تے رہے۔370کی وجہ سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور کرپشن پر پر ور ک نہیں لگ سکی، ایجنسیاں آزاد ہو کر ایکشن نہیں لے سکتی تھیں، یہاں تک مرکزی وزارت اقلیت بھی جموں اور کشمیر میں اقلیتوں کی ترقی کے منصوبوں پر کا م نہیں پاتی تھی کیوں کہ وہاں قانون الگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ رکاوٹ دور کر دی گئی ہے مرکزی حکومت تعلیمی ڈھانچے کو ترقی دینے اور مقامی سطح پر کسی بھی طرح کے خلل کے بغیر اہم اسکیموں کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوگی، جو نہ صرف اس خطے کی ثقافت کا تحفظ کرے گی بلکہ عوام کو مالی محاذ پربھی بااختیار بنائے گی اور روزگار پیدا کرنے کی صورتوں کا دائرہ وسیع ہوگا۔

مختار نقوی نے کہاکہ مرکزی وزارت اقلیتی امور 15اگست کے بعد انتظامیہ سے بات کر کے وادی کشمیر، لداخ میں عوام کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے کا م کرے گی۔ کشمیری فن کو دو بارہ زندہ کر نے، اس کے فروغ اور کا رو بار کے مواقع فراہم کر نے کیلئے وزارت اقلیت کی ’استاد‘ اسکیم کے تحت ’ہنر ہب‘ کا انعقاد کیا جا ئے گا، جہاں جہاں تعلیمی انتظامات درست نہیں ہیں وہاں انفراسٹکچر تیار کریں گے اورادارے قائم کئے جا ئیں گے۔وہیں ہائر ایجو کیشن،سیول سروس کی تعلیم اور تیاری کا انتظام کریں گے۔

وزیر موصوف نے کہاکہ جو تاریخی اور انقلابی قدم حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ہے اس سے متعلقہ خطے کے لوگوں کو بلا تفریق مزید آئینی حقوق کے ساتھ تقویت ملے گی۔370 کی وجہ سے جموں کشمیر میں تعلیمی اورصنعتی انقلاب نہیں لایا جا سکا۔ یہاں تک کہ ریاست کی خواتین کے حقوق تک غیر محفوظ ہو گئے تھے۔ اب وہ اپنی مر ضی سے اپنی زندگی کے فیصلے کر سکتی ہیں۔محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے تعلق سے پو چھے گئے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہاکہ جب کو ئی تاریخی فیصلہ کیا جا تا ہے تو اس کیلئے تمام احتیاط برتی جاتی ہیں، یہ کشمیریوں کے حقوق کا تاریخی فیصلہ ہے اور اس کوصحیح طرح نافذ کر نا ہے۔ وزیر موصوف نے کہاکہ اس تا ریخی مو قع پر کانگریس بھی حصہ لے سکتی تھی،اپنی تجاویز پیش کرتی، لیکن وہ’برین لیس‘ ہو گئی ہے۔وہ صرف مودی ہائے ہائے کرتے رہے اور عوام نے انہیں ’بائے بائے‘ کر دیا۔ اپنی تاڑیخی غلطی سدھارنے کا کا نگریس کے پاس ایک موقع تھا جو اس نے گنوا دیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close