تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

آرٹیکل 370 پر مسلم سحر فاؤنڈیشن کے وفد کی مسلم راشٹریہ منچ سے ملاقات

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
جموں اور کشمیر سے آ رٹیکل 370 ہٹائے جانے پر ملک بھر میں سیاست گرما گئی ہے۔ کہیں مرکزی حکومت کی مخالفت تو کہیں حمایت ہو رہی ہے۔ کوئی اسے غیر آئینی تو کوئی اس فیصلے کو مرکزی حکومت کا تاریخی اور ’دیر آئد درست آئد‘ فیصلہ بتا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سماجی تنظیم مسلم سحر فاؤنڈیشن کے صدر مسرور الحسن صدیقی ایڈوکیٹ کی قیادت میں فاؤنڈیشن کے ایک وفد نے مسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمار سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفد نے این ڈی اے حکومت کی کار کردگی اور مسلمانوں سے متعلق مسائل پر حکومت کی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پرایڈوکیٹ صدیقی نے کہا کہ آ زادی کے بعد سے جموں و کشمیر میں حکومت کر رہی پارٹیوں نے لداخ کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا جس کی وجہ سے وہاں کسی قسم کی ترقی کا کام نہیں ہوا۔ وہاں کی حکمراں پارٹیوں نے حکومت کو اپنے خاندانی کاروبار کی طرح چلایا اور عوام کو گمراہ کرکے اپنا الو سیدھا کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اب جب کہ جموں و کشمیرکو قومی خطہ(یونین ٹیریٹری)کا درجہ مل گیا ہے اور 370کے تحت کاروباریوں اور سرمایہ داروں کو جو رکاوٹیں تھیں وہ ہٹ گئی ہیں تو اب کشمیر میں نئی صنعتیں اور کاروبار قائم ہوں گے،بے روزگار نو جوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ایڈوکیٹ مسرور الحسن نے کہا کہ آرٹیکل 370کو نافذ کرکے اسوقت کی سرکار نے جو غلطی کی تھی اس کودرست کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی حکومت نے جو جرأت مندانہ اقدام کیے ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔

اس موقع پراندریش کمار نے وفد میں آئے لوگوں کا خیر مقدم کر تے ہوئے کہا کہ این ڈی اے حکومت ہر طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ صلح رحمی اور انصاف کا معاملہ رکھے گی اور کسی بھی طرح مسلمانوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تین طلاق پرانہوں نے کہا کہ مسلمان عورتیں جو طلاق کا شکار ہوئیں ان کی زندگی جہنم سے بد تر ہو گئی ہے۔اس لئے مسلم راشٹریہ منچ نے مسلم خاندان کے آپسی جھگڑے اور شادی طلاق سے متعلق ذاتی جھگڑوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ثالثی کرنے کیلئے جگہ جگہ صلح مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف جو برا ئیاں معاشرے میں گھر کر گئی ہیں وہ دور کر نا تب ہی ممکن ہوگا جب مسلمان اپنے آپ کو کسی ایک مسلک کے مطابق نہیں بلکہ صرف قرآن و حدیث کی تعلیمات کو ماننا شروع کر دیں۔ مسرور الحسن صدیقی (ایڈوکیٹ) نے یقین دہانی کرائی کہ ہم بہت جلد پرانی دہلی یا شاہ جہانی دہلی کے علاقے میں دو تین ایسے صلح کیندر قائم کریں گے جہاں مسلم خواتین، بزرگوں اور والدین کے فیملی قانون سے متعلق تنازعات و جھگڑوں کی سنوائی کرکے عدالت جانے سے بچا کر صلح صفائی کرائی جائے گی۔

وفد میں معروف عالم دین مولانا بشیر احمد قاسمی، مولانا عبدالحلیم، چودھری محمد رضوان خان، محمد ریاض، محمد ریحان، عمران خان بلوچ، مولانا منصب علی، محمد سعید، محمد شعیب، رویندر اور تعلیمی، سماجی اور حقوق خواتین کیلئے سر گرم تنظیم جن کلیان مہیلا سمیتی کی صدر مہر النساء، سمیت دیگر معزز افراد موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close